انوارالعلوم (جلد 8) — Page 216
انوار العلوم جلد ۸ ۲۱۶ احمدیت یعنی حقیقی اسلام قرآن کریم بعث ما بعد الموت کا قائل ہی نہیں۔ یہ دھو کا ویسا ہی ہے جیسے کہ بعض اور لوگوں نے یہ سمجھ چھوڑا ہے کہ جہاں ساعت کا لفظ آئے اس کے معنے ضرور قیامت کے ہوتے ہیں حالانکہ قرائن کے ذریعہ سے بآسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ کسی جگہ اس سے بعث ما بعد الموتِ مراد ہے اور کس جگہ نبی کا اپنی غرض میں کامیاب ہو جاتا اور ایک زندہ جماعت کے پیدا کرنے میں فلاح کا منہ دیکھنا مراد ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اس صفت کا نمونہ بھی نہایت عمدگی اور کامیابی کے ساتھ دکھایا ہے اور اس زبردست معیار پر حضرت مسیح ناصری نے بیان فرمایا تھا خوب کامیابی کے ساتھ آپ پورے اترے ہیں حضرت مسیح فرماتے ہیں۔ " جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے پر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔ تم انہیں ان کے پھلوں سے پہچانو گے کیا کانٹوں سے انگوریا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟ اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھے پھل لاتا اور بڑا درخت بڑے پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت بڑے پھل نہیں لا سکتا۔ نہ بُرا درخت اچھے پھل لاسکتا ہر ایک درخت جو اچھے پھل نہیں لاتا کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ پس ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچانو گے ۔ ۱۳۹ اس معیار کے یہی معنے ہیں کہ ہر اک درخت اپنے مطابق پھل لاتا ہے۔ پس نبی وہی ہے جو نبوت کا رنگ علی قدر مراتب اپنے متبعین میں پیدا کر دے اور خدا رسیدہ وہی ہے جو ہراک کی استعداد فطری کے مطابق اس کو خدا تک پہنچادے۔ اس معیار کے یہ معنے نہیں کہ کسی جماعت میں اخلاص اور قربانی ہو تو سمجھا جائے گا کہ مدعی سچا ہے اور خدا رسیدہ ہے را رسیدہ ہے کیونکہ قربانی کے صرف یہی معنے ہوتے ہیں کہ تے ہیں کہ متبعین کو اپنے مقتداء کی زندگی میں کوئی ایسی بات نہیں معلوم ہوئی جس کی وجہ سے وہ اسے جھوٹا خیال کریں۔ اب لوگوں کا کسی کو با اخلاق یا راستباز سمجھ لینا صرف دو باتیں ثابت کر سکتا ہے یا تو یہ کہ ان کو اس کے حالات سے پوری طرح واقفیت نہیں یا اگر وہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کو اس کی زندگی کا ہر شعبہ دیکھنے کا موقع ملا ہے تو پھر صرف اس قدر ثابت ہو گا کہ وہ مقتداء مفتری نہیں ہے بلکہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ راستباز ہے لیکن ہر شخص جو اپنے آپ کو راستباز سمجھتا ہے راستباز نہیں کہلا سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص کے دماغ میں کچھ نقص ہو اور ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے عقیدہ کی وجہ سے