انوارالعلوم (جلد 8) — Page 211
انوار العلوم جلد ۸ ۲۱۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے یہ ہے کہ جب ہندوستان میں طاعون پڑی اور اس کا سخت زور ہوا تو جس طرح طاعون کے نمودار ہونے سے پہلے آپ نے خبر دی تھی کہ اس ملک میں شدید طاعون (وباء) پڑے گی اسی طرح آپ نے اپنا ایک کشف یہ بھی لکھا کہ میں نے دیکھا کہ طاعون ایک مہیب جانور کی شکل میں جس کا منہ ہاتھی سے ملتا ہے چاروں طرف حملہ کرتی پھرتی ہے اور جب وہ ایک حملہ کر چکتی ہے تو میرے سامنے آکر بیٹھ جاتی ہے اور اس طرح بیٹھ جاتی ہے جس طرح کوئی غلام مؤدب ہو کر بیٹھتا ہے اور اپنی فرمانبرداری کا اقرار کرتا ہے ۱۲۳۔ پھر آپ کو الہام ہوا کہ ” آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے " ۱۲۴ یعنی طاعور طاعون نہ صرف ہماری بلکہ ہمارے غلام غلاموں یعنی جو ہمارے ہی ہو جاتے ہیں اور اپنی مرضی کو ہمارے تابع کر دیتے ہیں ان کی بھی غلام ہے وہ ان کو کچھ نہیں کہے گی اور وہ اس سے محفوظ رہیں گے۔ پھر الہام ہوا کہ اِنِّي أُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ ١٢٥ میں تیرے گھر میں جس قدر لوگ ہیں ان کو طاعون سے محفوظ رکھوں گا۔ ۱۲۵ آپ نے ان الہامات کو اسی وقت اخباروں اور کتابوں کے ذریعہ سے شائع کرا دیا اور اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو حق پر تو اپنے متعلق ایسی ہی خبر شائع کر کے دیکھیں کہ ان کے گھریا ان کی ذات طاعون سے محفوظ رہے گی مگر کوئی شخص مقابلہ پر نہ آیا۔ تمام لوگ جو دنیا کے حالات سے مطلع رہنے کی کوشش کرتے ہیں جانتے ہونگے کہ ہندوستان میں اٹھائیس سال سے سے سخت طاعون پھوٹا ہوا ہے اور ۱۹۰۱ء : ۱۹۰۱ء میں تو جبکہ یہ الہامات حضرت مسیح موعود کو ہوئے تھے اس کا زور نہایت ہی سخت تھا۔ اس وقت تک ستراتی لاکھ آدمی طاعون سے مرچکا ہے اور ایک ایک سال میں تین تین لاکھ آدمی مرتا رہا ہے خصوصاً اس کا حملہ پنجاب پر سب سے زیادہ سخت پڑا ہے ۔ اور تین چوتھائی بلکہ اس سے بھی زیادہ موتیں صرف پنجاب میں واقع ہوئی ہیں۔ ایسی سخت وباء کے ایام میں اور ایسے مبتلاء علاقہ کے رہنے والے شخص کا اس قسم کا دعوی کیسا نازک ہے اور خصوصا جبکہ ایک شخص کے متعلق نہیں بلکہ ایک گھر کے متعلق ہو جس میں ستر یا سو آدمی رہتا ہو پھر ایک سال کے متعلق نہیں بلکہ ایک لمبے عرصہ تک کے لئے ہو۔ کونسا انسان ہے جو اس قسم کی بات کا ذمہ لے سکے ؟ اور کونسی انسانی طاقت ہے جو پھر اس ذمہ داری کو پورا کر سکے۔ پھر یہ بات بھی دیکھنے والی ہے کہ قادیان ایک چھوٹی سی بستی ہے اور اس وجہ سے گورنمنٹ