انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxiv
14 کہ اس کے ذریعہ سے بلاد اسلامیہ کے اخلاق کو خراب کرے۔ مگر میرا دل کہتا ہے اور جب سے میں نے قرآن کریم کو سمجھا ہے میں برابر اس کی بعض سورتوں سے استدلال کرتا ہوں اور اپنے شاگردوں کو کہتا چلا آیا ہوں کہ یورپین فوقیت کی تباہی مصر سے وابستہ ہے۔" اس سفر میں حضور حیفا اور عکہ بھی تشریف لے گئے جنہیں بھائی اپنے مراکز قرار دیتے آپ نے بہائیوں ہیں۔ وہاں ان کی بے ۔ ان کی بے مائیگی اور کسمپرسی کے حالات خود ملاحظہ فرمانے کے بعد آپ نے کے مبالغہ آمیز دعووں کی حقیقت خوب کھولی ہے۔ آخر میں فرمایا : غرض حیفا اور عکہ جانے سے ہمیں بہت کچھ فائدہ ہوا۔ ہمارے کئی دوست کہتے تھے جس شخص کو بہائیت کی طرف میلان ہو اس کو یہاں لانا چاہئے اور پھر پوچھنا چاہئے کہ اسی سال میں تمہاری تو یہ ترقی ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمہیں سال میں وہ جو تم قادیان میں دیکھتے ہو ۔" اہل لندن کے نام پیغام یہ پیغام کے ستمبر ۱۹۲۴ء کو مسجد فضل لندن میں پڑھا گیا۔ جس میں حضور نے اپنے سفر کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔ جس کام کیلئے آیا ہوں وہ یہ ہے کہ میں ایسے طریقوں کو دریافت کروں جن کی مدد سے اپنے مغربی بھائیوں اور بہنوں کو وہ پیغام پہنچا سکوں جو خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوق کیلئے بھیجا ہے۔" مزید فرمایا۔ ”ہمارا مشن یہ ہے کہ جس طرح ہم نے خدا کو پالیا ہے ہمارے دو سرے بھائی بھی اس کو پالیں۔ انسان کی پیدائش کی غرض جیسا کہ تمام مذاہب نے بیان کی ہے یہی ہے کہ خدا کو پا لیا جائے ۔ خدا کا فیضان ہمیشہ کیلئے جاری ہے۔ بے شک ہماری باتیں اس زمانہ کی عقل نہیں مانتی مگر خدا تعالی کی جب بھی کوئی آواز اٹھتی ہے تو ایسے ہی حالات میں اٹھتی ہے۔ پس مبارک وہ جو کان دھرتے ہیں۔“