انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 203

انوار العلوم جلد ۸ ۲۰۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہو جائے تو اس کا کوئی علاج نہیں تب وہ ضرور مرجاتا ہے اور آج تک ایک کیس بھی ایسا نہیں ہوا یک ایسا کہ ایسا مریض بچ گیا ہو چنانچہ جب اس لڑکے کی شفایابی کی خبر کسولی پہنچی تو وہاں سے ایک شخص ایک شخص نے یہ خط لکھا ۔ سخت افسوس تھا کہ عبد الکریم جس کو دیوانہ کتے نے کاٹا تھا اس کے اثر میں مبتلاء ہو گیا مگر اس بات کے سننے سے بڑی خوشی ہوئی کہ وہ دعا کے ذریعہ سے صحت یاب ہو گیا۔ ایسا موقع جانبر ہونے کا کبھی نہیں بنا۔ ۱۱۲۔ یہ وہ شفا کی قسم ہے جو حقیقی شفا کہلا سکتی ہے اور جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ کوئی خدا ہے جس میں شفا دینے کی طاقت ہے اور وہ لوگ جو ایسی شفا کے نمونے دکھائیں اس امر کا حق رکھتے ہیں کہ کہیں انہوں نے خدا تعالیٰ کو اس کی اصلی صورت میں اور یقینی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔ حضرت مسیح موعود نے اور بھی بہت سے نشانات اس صفت کے ظاہر اور روشن کرنے کے لئے دکھائے ہیں مگر اس جگہ ان سب کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں یہ مضمون نامکمل رہے گا اگر میں اس چیلنج کا ذکر نہ کروں جو آپ نے پادری صاحبان کو دیا تھا آپ نے اس میں لکھا تھا کہ آپ لوگ مسیح مسیح اول کے پیرو ہیں جو نشانات دکھاتا تھا اور آر آپ لوگوں کو اس کا قائم مقام ہونے کا دعویٰ ہے اور مجھے محمد رسول اللہ اللہ کے قائم مقام ہونے کا دعوی ہے پس میں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ دعا میں اس طرح مقابلہ کر لیں کہ بعض خطر ناک مریض جو عام طور پر اچھے ہونے کے قابل نہیں سمجھے جاتے ان کو لے کر بذریعہ قرعہ آپس میں برابر تعداد میں تقسیم کر لیا جائے پھر جو مریض میرے حصے میں آئیں ان کے لئے میں دعا کروں اور جو آپ لوگوں کے حصے میں آئیں ان کے لئے آپ دعا کریں پھر دیکھیں کہ اللہ تعالی کس فریق کے بیماروں کو اچھا کرتا ہے؟ ۱۱۳ مگر افسوس کہ پادری صاحبان اس مقابلہ پر نہ آئے ۔ مه اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت قدوس بھی ہے یعنی وہ پاک ہے۔ اب اس صفت پر سب مذاہب ہی متفق ہیں لیکن کوئی ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ خدا تعالیٰ کی نسبت کیونکر معلوم ہو کہ وہ قدوس ہے ۔ اول تو جو صفات اس کی بیان کی جاتی ہیں وہی مشتبہ میں ان سے ہم اندازہ کس طرح لگا سکتے ہیں کہ وہ قدوس ہے ؟ اگر اس امر کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور اس صفت کو مستقل طور پر الگ ہی تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس کا ثبوت ہمیں کوئی نہیں ملتا۔ اس صفت کا ثبوت صرف