انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 201

انوار العلوم جلد ۸ ۲۰۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے یہ کہ اگر یہ تعلق باللہ کی علامت ہے تو ہم ان لوگوں سے دریافت کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ صفت شافی تو ان کی دعا کی وجہ سے حرکت میں آتی ہے اور مریض کو شفا بخشتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی باقی صفات ان کی دعا کے ذریعہ سے جوش میں نہیں آتیں؟ نہ خلق کی نہ علم کی نہ احیاء کی نہ حفاظت کی نہ اور دوسری صفات۔ جو لوگ کہ صفات الہیہ کے ظہور کے بالکل ہی منکر ہیں وہ تو خیر جواب دے بھی سکتے ہیں کہ خدا کی صفات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لیکن جو شخص کہ ایک صفت کے متعلق دعویٰ کرتا ہے کہ میری دعا اور توجہ سے وہ ظاہر ہوتی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس سوال کا بھی جواب دے کہ پھر باقی صفات کا اظہار خدا تعالیٰ کیوں نہیں کرتا؟ اصل بات یہ ہے کہ علاوہ دعا اور اس کی قبولیت کے انسان کے اندر اللہ تعالٰی نے ایک طبعی مادہ رکھا ہے کہ اس کی توجہ کا ایک مخفی اثر دو دوسرے انسان پر ہوتا ہے اور اس کے خیالات کی لہر اس کے معمول کے اندر جاکر اس کے اعصاب پر قبضہ پالیتی ہے اور اس کے خیالات کو اپنے خیالات کے مطابق کر لیتی ہے اور جب معمول کے خیالات عامل کے خیالات کے مطابق ہو جاتے ہیں تو پھر ان خیالات کے اثر کے نیچے اس کے اندر ایک اچھی یا بری تبدیلی شروع ہو جاتی ہے جو عامل نے معمول کے اندر پیدا کرنی چاہی تھی مگر یہ اثرات قریبا قریباً اعصابی دور تک ہی محدود ہیں۔ مثلا یہ تو ہو جائے گا کہ ایک شخص کی توجہ سے کسی کا بخار ٹوٹ جائے یا آنکھ کی سرخی جاتی سر درد دور ہو جائے مگر مثلا یہ نہیں ہو گا کہ آتشک یا کوڑھ یا رسل وغیرہ کی بیماریاں دور ہو جائیں یہ طاقت مشق کرنے سے بہت بڑھ جاتی ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ ضرور مقررہ قواعد کے ساتھ ہاتھ پھیرنے یا Suggestion ( تجویز دینے سے ہی ایسے نتائج نکلیں ۔ اصل امر تو توجہ کا قیام ہے ۔ اگر توجہ کا قیام اور احساسات کا اجتماع کسی خاص امر کے متعلق ہو جائے تو خواہ دعا کے ہی رنگ میں ہو اس کا اثر ہو جاتا ہے۔ ہر اک شخص جو اس طرف توجہ کرے تھوڑی سی کوشش سے اس میں ترقی کر سکتا ہے بلکہ جو لوگ شراب اور سور کا استعمال کرتے ہیں وہ تو بہت ہی جلد اس علم کے ماہر ہو سکتے ہیں۔ مگر اس علم میں انسان خواہ کس قدر بھی ترقی کر جائے اسے روحانیت کی ترقی نہیں کہہ سکتے نہ خدا تعالیٰ کا کوئی غیر معمولی نشان قرار دیں گے ۔ ہاں یہ کہیں گے کہ فلاں شخص نے خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک قدرت کے قانون سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ آج کل جو لوگ شفا کے اس قسم کے شعبدے دکھاتے ہیں وہ ہرگز خدا کے نشانات نہیں کہلا سکتے اور نہ وہ کسی خاص مذہب سے مخصوص ہیں مگر جو نشانات خدا تعالیٰ کی صفت رہے یا سرور