انوارالعلوم (جلد 8) — Page 200
انوارالعلوم جلد ۸ ۲۰۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام طرح ٹھوکر کھا گیا جس طرح بعض مسیح ناصری کے حواریوں نے ٹھو کر کھائی تھی اس پر سخت معترض ہوا کہ ایسا آپ کیوں لکھتے ہیں ؟ اگر اس کے اولاد ہو گی تو سخت مشکل ہوگی اور لوگوں میں بدنامی ہوگی اور شاید کوئی مقدمہ بھی دشمن کھڑا کر دے ۔ مگر آپ نے اس کو یہی جواب دیا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے میں اس سے کیونکر منہ پھیر سکتا ہوں اور اس میں شک لاسکتا ہوں۔ تمہارا یہ اعتراض قلتِ ایمان کا نتیجہ ہے اور کچھ بھی نہیں چنانچہ ایسا ہی ثابت ہوا۔ اب دیکھو اگر وہ لڑکا بچپن میں مرجاتا تو شاید کوئی کہہ دیتا کہ یہ اتفاق تھا مگر پیشگوئی کے بعد پہلے تو باپ کی پندرہ سال تک اولاد بند رہی اور پھر جو لڑ کا موجود تھا اس کی دو دفعہ شادی کی گئی مگر اولاد اس کے بھی پیدا نہ ہوئی ۔ اگر خالق خدا نے ہی یہ فیصلہ نہ کیا ہو تا کہ دشمن کے منہ پر اس کی بد زبانی ماری جائے اور سرکش کو اس کے کئے کی سزادی جائے تو یہ کس طرح ممکن تھا۔ اس نشان کو دیکھ کر اور بے تعصبی سے غور کر کے کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ اسلام کا خدا ایسا ہی خالق نہیں یہ کہ ہے جیسا کہ وہ ابتدائے آفرینش میں تھا؟ کیونکہ کیا ایسا نہیں ہوا کہ اس نے کہا کہ فلاں کے اولاد ہو اور اس کے اولاد ہو گئی اور اس نے کہا کہ فلاں کے اولاد نہ ہو اور اس کے اولاد نہ ہوئی ۔ پھر کون ہے جو اس نشان کو دیکھ کر تازہ ایمان نہ حاصل کرے اور اس کا دل یقین اور انشراح سے بھر نہ جائے ؟ اور وہ کوئی خالق ہونا چاہئے" کے شک اور گمان کے مقام سے بلند ہو کر ” دنیا کا ایک خالق ہے" کے وثوق اور اطمینان کے مرتبہ تک نہ پہنچ جائے۔ فَسُبْحَانَ اللَّهِ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ اب میں اللہ تعالیٰ کی ایک تیسری صفت کو لیتا ہوں جو مذکورہ صفات کی طرح مشہور صفت ہے اور جس سے چھوٹے بڑے سب واقف ہیں ۔ یعنی صفتِ شفا ۔ اس صفت پر تو لوگوں کو ایسا یقین ہے کہ کئی مذاہب کے پیروؤں کا دعوی ہے کہ وہ اس صفت کا نمونہ دکھا سکتے ہیں چنانچہ بہت سے لوگ دعا سے مریضوں کا علاج کرنے کی طرف متوجہ ہیں ۔ مگر ہر شخص جو عقل سے کام لے سمجھ سکتا ہے کہ یہ کام دعایا خدا کی خاص تقدیر سے بالکل تعلق نہیں رکھتا کیونکہ اس قسم کی شفا کسی خاص مذہب کے لوگوں سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ایسے لوگ جو اس طرح شفا دیتے ہیں مسیحیوں میں بھی پائے جاتے ہیں ہندوؤں میں بھی یہودیوں میں بھی اور زردشتیوں میں بھی ۔ پس یہ امر کسی مذہب کی صداقت کا ثبوت کس طرح کہلا سکتا ہے؟ اور کس طرح تعلق باللہ کا نشان سمجھا جا سکتا ہے۔