انوارالعلوم (جلد 8) — Page 188
۱۸۸ بھی سچا ہے اور دونوں میں تصادم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اسلام مسیحیت کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔اور بعض لوگوں نے یورپ کے سامنے ان مسائل کے متعلق جن کو یورپ قابل اعتراض سمجھتا تھا معذرت کرنی شروع کر دی تھی کہ اسلام کا وہ منشاء نہیں جو وہ خیال کرتے ہیں بلکہ اصل میں اسلام بھی وہی کہتا ہے جو وہ کہتے ہیں یا اس قسم کے عذر پیش کرنے شروع کر دئیے تھے کہ ا سلام ایسے تاریک زمانہ میں آیا تھا جب عرب کی حالت نہایت نزدیک تھی اس لئے ان لوگوں کی تدریجی اصلاح کے لئے بعض احکام دئیے گئے تھے جو اصل مقصود نہ تھے۔اب مسلمان علماء کی مجالس ان کو منسوخ کر دیں گی یا یہ کہنے لگے تھے کہ رسول کریم ﷺ عرب کے قومی خیالات کا لحاظ کر کے انہی کے اعتقادات کے مطابق کلام کرتے تھے اور اصل میں آپ کی مراد اس سے اور ہوتی تھی۔غرض مسلمانوں نے اپنے عمل اور اپنے قول سے اس امر کو تسلیم کر لیا تھا کہ اب اسلام کی زندگی چند روزہ ہے اور وہ حملہ تو الگ رہا دفاع کی بھی طاقت اپنے اندر محسوس نہیں کر تے تھے اور ہتھیار رکھنے پر آمادہ تھے اور صرف اسی امر کے منتظر تھے کہ زیادہ اچھی شرائط پر مسیحیت سے ان کی صلح ہو جائے اور ہمیں بالکل ہی وحشی نہ قرار دیا جائے۔یہ تو قومی حالت تھی۔خود پیشگوئی کرنے والے کا ی حال تھا کہ اس کے ساتھ کوئی جماعت نہ تھی اس نے مسیحیت کا دعویٰ ابھی نیا نیا کیا تھا اور اس کی وجہ سے سب دنیا اس کی مخالف ہو گئی تھی۔حکومت اس کی مخالف تھی، رعایا اس کے مخالف تھی، مسیحی اس کے مخالف تھے، ہندو اس کے مخالف تھے اور وہ قوم جس کے مذہب کی تائید کے لئے وہ کھڑا ہوا تھا وہ بھی اس کے مخالف تھی اور سب سے زیادہ مخالف تھی دعویٰ اس کا بالکل نرالا تھا مسلمان ایک خونی مہدی اور ایک آسمان سے آنے والے مسیح کے منتظر تھے اوروہ پیش کرتا تھا کہ خونی مہدی نہیں بلکہ صلح کرنے والا مہدی مقرر ہے اور مہدی اور مسیح الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں او رآسمان سے نہیں بلکہ اسی دنیا سے انہوں نے ظاہر ہونا ہے اور سب پر طُرہ یہ کہ وہ کہتا تھا کہ وہ موعود میں ہی ہوں جسے علم، رتبہ، عزت کسی بات میں بھی دوسروں پر فضیلت نہیں۔پھر غیر ممالک میں جانے آنے اور وہاں شہرت پانے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اس کا حال یہ تھا کہ صرف چالیس پچاس آدمی اس کے ساتھ تھے جن میں سے سوائے دو کے جو کسی قدر آسودہ تھے باقی سب نہایت غریب اور شکستہ حالت کے آدمی تھے حتیٰ کہ ان کی ماہوار آمدنیاں پندرہ روپیہ سے بھی کم تھیں جن میں ان کو اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی سب ضروریات پوری کرنی پڑتی