انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 184

۱۸۴ سے پاک ہوں حضرت مسیح موعود کو بھیجا تھا جو کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے اس مقام پر پہنچے جس پر قدیم سے نبی پہنچتے چلے آئے ہیں بلکہ بہت سے نبیوں کے مقام سے بھی اوپر قرآن نے اس مقام تک آپ کی راہنمائی کی جس تک ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور مسیحؑ کو راہنمائی حاصل نہ ہوئی تھی اور آپ نے اپنی قوت قدسیہ سے خدا تعالیٰ کی صفات کو ایسے یقینی رنگ میں ثابت کیا کہ ہر ایک جو دیکھتا ہے حیران ہو جاتا ہے اور جو سنتا ہے دنگ رہ جاتا ہے۔لاکھوں ہیں جو ان نشانات کے ذریعہ سے زندہ کئے گئے ہیں اور لاکھوں ہیں جو ان معجزات کے ذریعہ سے بیماریوں سے شفا دئیے گئے ہیں۔آپ نے وہ درجہ عرفان کا پایا جس کے بعد کوئی شک او رشبہ باقی نہیں رہتا اور اس طرح خدا سے ملے کہ جس کے بعد کوئی دوری باقی نہیں رہتی اور ایسی پیوستگی حاصل کی کہ اس کے بعد کوئی افتراق نہیں اور خدا تعالیٰ کے رنگ میں ایسے رنگین ہوئے کہ اور کوئی رنگ آپ پر باقی نہ رہا۔آپ دنیا سے بکلّی منقطع ہو کر اسی یار ازل کے ہو گئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ یار ازل آپ کا ہو گا۔غرض اسلام کی تعلیم کا ایک ایک حکم آپ نے خود تجربہ کر کے دیکھا اور اس کو صحیح پایا اور اس کے نیک نتائج آپ نے محسوس کئے اور آپ پر خدا تعالیٰ نے اپنی صفات کی چادر ظلی طور پر اٹھائی اور آپ اس سے مزین ہو کر دنیا کی طرف واپس لوٹے تاکہ لوگوں کو خدا کی طرف لے جائیں۔آپ ہی کا حق تھا کہ آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف ے جاتے کیونکہ یہ قدیم سے سنت چلی آتی ہے کہ وہی اوپر جا سکتے ہیں کہ جو اوپر سے آتے ہیں۔حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں "اور کوئی آدمی آسمان پر نہیں جاتا لیکن وہی جو آسمان سے آتا ہے" اور میں اس پر یہ زیادہ کرتا ہوں کہ کوئی شخص آسمان پر نہیں جا سکتا مگر وہ جو آسمان سے بھیجا جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود جن کو بطور عطیہ کے خدا تعالیٰ نے اپنے جلال کی چادر اڑھائی اور پھر دنیا کی ہدایت کے لئے دنیا میں واپس بھیجا آپ ہی کا حق تھا کہ لوگوں کو خدا تعالیٰ تک پہنچائیں۔چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ایک ایک صفت کو اپنے وجود سے ظاہر کیا اور خدا تعالیٰ کو لوگوں سے قریب کر کے لوگوں کو خدا سے قریب کر دیا۔قرآن کریم میں آتا ہے وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الأَنعام:104) خدا بندوں کی کمزوری کو دیکھ کر خود ان کے قریب ہوتا ہے۔چنانچہ جس طرح قدیم زمانہ سے اس کی سنت ہے وہ اب بھی مسیح موعود پر ظاہر ہوا۔اور اس کے ذریعہ سے اس نے اپنے آپ کو دوسری دنیا پر ظاہر کیا تا ثابت ہو کہ وہ خدا زندوں کا خدا ہے۔وہ جس طرح ابرہام کا خدا تھا، موسیٰ کا خدا تھا، مسیح کا خدا تھا، آنحضرت ﷺ کا خدا تھا، اب بھی وہ ہمارا خدا ہے۔اس نے ہم کو نہیں چھوڑا بلکہ ہم