انوارالعلوم (جلد 8) — Page 183
انوار العلوم جلد ۸ ۱۸۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام شہادت کے درجہ کی قابلیت پیدا کر رہے ہیں ان مقامات میں سے پہلے تین مقامات ہی دراصل وہ مقامات ہیں جن پر پہنچ کر انسان شک و شبہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔ ہمیں کیا فائدہ ہے اس امر پر زور دینے کا کہ خدا تعالیٰ علیم ہے جب تک کہ اس کے علم کا ہم کو یقینی ثبوت نہیں ملتا؟ جب تک ہم اپنی آنکھوں ۔ وں سے اس کے علم کا مشاہدہ نہ کریں۔ ہم کس طرح تسلی سے بلکہ میں کہتا ہوں دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ فی الواقع علیم ہے۔ خدا تعالیٰ کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ کرتا ہے اگر ہم اس کا کوئی ثبوت نہیں دیکھتے کہ وہ زندہ کر سکتا ہے تو ہم کس طرح یقین سے بلکہ میں کہتا ہوں دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ فی الواقع مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خالق ہے لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ ایک خاص قانون کے ماتحت سب کچھ ہو رہا ہے پھر ہم کس طرح مانیں کہ اس پیدا ح مانیں کہ اس پیدائش میں خدا کا ؟ ا کا بھی کوئی دخل ہے اور ہم کس طرح وثوق سے بلکہ میں کہتا ہوں دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ واقع میں خدا خالق ہے ۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ ہر ایک چیز اس کے قبضہ میں ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں انسان اس کی ذات کا بھی انکار کرنے والے موجود ہیں پھر جبکہ ہم اس کے تصرف کا ظاہر میں کوئی نشان نہیں دیکھتے تو ہم کس طرح علم کی بناء پر بلکہ میں کہتا ہوں کہ دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو دنیا کی چیزوں پر تصرف حاصل ہے ۔ یہی حال سب صفات کا ہے جب تک ہم اس امر کا یقینی ثبوت نہ رکھتے ہوں کہ خدا تعالی کی طرف سے ان صفات کا ظہور اس رنگ میں ہوتا ہے کہ ہم اس کو اتفاق کی طرف منسوب ہی نہیں کر سکتے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ صفات خدا تعالیٰ میں ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ کی ذات تو نظر نہیں آتی اس کا علم اس کی صفات کے ہی ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو جبکہ ہمارے پاس کوئی یقینی ثبوت اس کی صفات کے ظہور کا نہ ہو ہم دیانتداری سے یہ بھی کب کہہ سکتے ہیں کہ کوئی خدا بھی ۔ موجود ہے اور جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے یہ سب کسی ابے بے جا جان قانون قدرت کا جو کسی غیر معلوم پیچ در پیچ جوڑ کے ساتھ نہایت ہی مکمل طور پر سے جا چل رہا ہے نتیجہ نہیں ہے ۔ اس شبہ کا ازالہ صرف اسلام ہی کرتا ہے ۔ اس کی تعلیم پر چل کر ایسے لوگ پیدا ہو ۔ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو کہ صفات الہیہ کے مظہر ہوتے ہیں اور جو پہلے خود اپنی ذات پر صفات الہیہ کا پر تو ڈالتے اور پھر دوسروں کو اس کا نشان دکھاتے ہیں، اور ہستی باری تعالی کا کامل عرفان بخشتے ہیں ۔ چنانچہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے کہ لوگ اس کے وجود کو پہچانیں اور شک و شبہ کی زندگی