انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 181

انوار العلوم جلد ۸ ۱۸۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو تا بلکہ اسلام اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ الہام یا خوا ہیں کئی اقسام کی ہوتی ہیں۔ ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا مَا۔ ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوْى - وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْى يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى " ہم اس بے جڑ بوٹی کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں جب وہ گر جائے یعنی جس طرح وہ بوٹی جس کی جڑھ نہ ہو اگر اونچی ہو تو گر جاتی ہے اسی طرح جو شخص نبوت کے دعوئی میں جھوٹا ہوتا ہے خواہ الہام کا بنانے والا ہو خواہ دھو کا خوردہ ہو ۔ چونکہ اس کی تعلیم کی بنیاد ان روحانی علوم پر نہیں ہوتی جو کسی سلسلہ کو قائم ۔ قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں اس لئے جب اس کی : اس کی جماعت ڑھنے لگتی ہے تو اس میں انحطاط کے آثار پیدا ہونے لگ جاتے ہیں اور وہ بلند و بالا نہیں ہو سکتی یعنی ایک مستقل مذہب کی صورت اختیار کرنے سے پہلے اس کی تباہی شروع ہو جاتی ہے۔ وہ دوسرے مذاہب کے مقابل سر اونچا کر کے نہیں کھڑا ہو سکتا بلکہ ایک فرقہ کی ہی صورت میں ہوتا ہے کہ اس کا سر نیچے ہو جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے تمہارا ساتھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ وہ شرارت سے یہ دعوی کرتا ہے یعنی نہ تو ہے اس کو دھوکا لگا ہے اور نہ یہ جانتے ہوئے کہ مجھے کوئی الہام نہیں ہو تا فریب سے الہام بناتا۔ اور نہ وہ اپنی خواہشات کے سبب سے کلام کرتا ہے یعنی ایسا نہیں ہوا کہ اس کی خواہشات نے اس کے سامنے بعض نظارے بنا کر دکھلائے ہوں اور وہ ان کو الہام سمجھ بیٹھا ہو بلکہ اس کو الہام ہوا ہے جو - و کسی اور طاقت نے کیا ہے مگر یہ شبہ نہ کرنا کہ شیطان کی طرف سے الہام ہوا ہے بلکہ اس کا الہام کرنے والا وہ طاقتور خدا ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے ۔ پس وہ اپنی قوت اور طاقت کے اظہار سے اس امر کو ثابت کر دے گا کہ اس کا الہام سچا ہے۔ اور خدا کی طرف سے ہے اور اس کی جماعت بڑھے گی اور تنے والے درخت کی طرح اونچی ہو گی ! اونچی ہو گی اور تمام طبائع اور علوم کے لوگ اس میں داخل ہوں گے اور زمانہ اس کو مٹا اس کو مٹا نہیں سکے گا اور وہ دو روہ دوسرے کثیر التعداد مذاہب کے سامنے سر اونچا کر کے کھڑا ہو گا اور ان میں سے گنا جائے گا۔ اس آیت میں الہام کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں ایک وہ الہام جس کے منبع کا پتہ لگانا انسان کے لئے مشکل ہوتا ہے یعنی جو دماغ کی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ دوسرے وہ الہام جو نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسان سوچے تو معلوم کر سکتا ہے کہ جو خیالات میرے دل میں پیدا ہوتے تھے انہی کے مطابق میں نے نظارہ دیکھ لیا ہے تیسرے وہ الہام جو شیطانی ہو تا ہے یعنی جس میں روحانیت کے خلاف بے دینی اور بدی کی تعلیم ہوتی ہے اور چوتھے وہ الہام جو خداتعالیٰ کی شد