انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 176

۱۷۶ لئے اور اپنی طرف کھینچنے کے لئے دعا کا دروازہ کھولا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ سے اگر کوئی انسان دعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے بشرطیکہ دعا اس طریق پر ہو اور اس حد تک ہو جس حد تک کہ دعا ہونی چاہئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (النمل:63) وہ کون ہے جو مضطر کی دعا سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے او راس دعا کو قبول کر کے اس پکارنے والے کی تکلیف کو دور کرتا ہے اور جو ظالم ہو اس کے ظلم کو دور کر کے اس مظلوم فریادی کو اس کی جگہ پر قائم کر دیتا ہے۔کیا اس خدا کی طاقت کا کوئی اور بھی ہے؟ مگر تم لوگ نصیحت نہیں حاصل کرتے۔اس درجہ کو اللہ تعالیٰ نے سب کے لئے کھلا چھوڑا ہے یعنی خواہ کسی مذہب کا آدمی ہو اس کی دعاؤں کو جب وہ سخت گھبراہٹ میں کی جائیں سنتا ہے اور اس طرح اس امر کا موقع دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی زندگی اور اس کے تعلق کو محسوس کریں اور شک و شبہ کی حالت سے نکلیں۔اور اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ عرفان ہر حالت کے لوگوں کو ملنا چاہئے کیونکہ انسان توجہ بھی تبھی کرتا ہے جب اس کے دل میں کسی چیز کی اہمیت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ مقام جیسا کہ میں نے بتایا ہے سب مذاہب کے لوگوں کے لئے کھلا ہے۔ہر مذہب کے لوگ خدا سے دعا کر کے دیکھ سکتے ہیں وہ اس کا فائدہ محسوس کریں گے اور ان کو معلوم ہو گا کہ بہت سی مشکلات جن سے وہ پہلے تکلیف پاتے تھے دعا کے ذریعہ سے حل ہو جائیں گی۔مگر یہ درجہ عرفان کا بہت ہی ناقص درجہ ہے مگر ہر وقت یہ شبہ انسان کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید جو کام دعا کےبعد ہو گیا ہے اس نے یوں بھی ہو ہی جانا تھا اور شاید جو مصیبت رک گئی اس نے یوں بھی رک جانا تھا کیونکہ بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ اتفاقات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہوتا ہوا کام رک جاتا ہے اور مشکل کام ہو جاتا ہے اور اس کے لئے دعا بھی کوئی نہیں کی گئی ہوتی بلکہ بعض اوقات وہ شخص جس سے یہ معاملہ گذرا ہوتا ہے دعا کا قائل ہی نہیں ہوتا۔علاوہ ازیں اس درجہ میں ایک یہ بھی نقص ہوتا ہے کہ یہ بعض طبعی قوانین سے مشابہ ہے یعنی مسمریزم اور ہپناٹزم اور ان دونوں طبعی قوانین کے ذریعہ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں اور کئی تکالیف رفع ہو جاتی ہیں۔پس شبہ پڑتا ہے کہ شاید دعا اسی قسم کی کوئی چیز ہو خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہ آتی ہو بلکہ صرف اجتماع توجہ کے سبب سے بعض نتائج پیدا