انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 168

انوار العلوم جلد ۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اور وہ کہیں کہ اچھا وہ ملک کہاں ہے کہ ہم وہاں جائیں اور اس کے میوے چکھیں اور اس کا پانی ہیں؟ تو وہ شخص کہے کہ ملک تو وہ ایسا ہی ہے مگر افسوس ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کس طرح وہاں جاتے ہیں۔ میں نے اپنے باپ دادا کی لائبریری میں ایک کتاب دیکھی تھی اس میں دیکھا تھا کہ ایک نیا ملک ہے پس میں نے نہ چاہا کہ آپ اس عظیم الشان دریافت کے علم سے ناواقف رہیں۔ آپ لوگ قیاس کر سکتے ہیں کہ اس شخص کے ساتھ سامعین کیا سلوک کریں گے ؟ مگر تعجب ہے کہ مذہب کے بارے میں لوگوں سے اس قسم کا تمسخر کیا جاتا ہے اور کوئی نہیں پوچھتا کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے ؟ خدا تعالی کی طرف بلایا جاتا ہے مگر جب کوئی آئے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ وہ جہاں تھا وہیں کا وہیں رہتا ہے صرف خلش اور حسرت کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ کسی نے آج تک نہ سنا ہو گا کہ بلا دیکھے کسی خیالی صنم سے کسی کو عشق ہو جائے ۔ عشق تو حسن دیکھ کر ہوتا ہے نہ کہ محض حسن کا ذکر سن کر تو پھر اس قدر محبت جس کی امید کی جاتی ہے کہ بندہ خدا سے کرے بلا خد اتعالیٰ کو دیکھنے کے کس طرح پیدا ہو سکتی ہے ؟ محبت تو دل کے گداز ہو جانے کا نام ہے مگر جب آگ ہی نہ ہو تو کوئی چیز گداز کسی طرح ہو گی ؟ پہلے ضروری ہے کہ ایک سورج کی طرح چمکتا ہوا چہرہ ہوتا وہ اپنی روشنی کی گرمی سے دلوں کو گداز کرے تب اس کے نتیجہ میں محبت بھی پیدا ہو گی ۔ پس کوئی مذہب پس کوئی مذہب سچا عشق : خدا سے نہیں پیدا کر اسکتا جب تک کہ وہ خدا کی ملاقات کا راستہ نہیں کھولتا۔ زمانہ کی حالت کو دیکھ لو۔ آج کتنے لوگ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی الفت کو دل میں رکھتے ہیں یقینا دس فیصدی بھی نہیں اور یہ دس فیصدی بھی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ خدا سے محبت پ دادوں کی بنائی ہوئی راہ پر چل رہے ہیں۔ چاروں طرف دنیا ہے مگر حقیقتاً وہ قدیم رسوم اور باپ دادوں میں تاریکی اور ظلمت ہی نظر آتی ہے خدا کے لئے قربانی کرنا لوگوں کے لئے مشکل ہے دین کے نام پر جو قربانیاں ہیں ان کے پیچھے بھی قوم پرستی کا جذبہ منڈلاتا نظر آتا ہے۔ ابھی اگزیبشن د رہی ہے کس قدر دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لئے آرہے ہیں۔ خدا کو دیکھنے کے لئے کوئی نہیں گھر سے نکلتا اس لئے کہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ نہ گھر میں نظر آتا۔ راتا ہے نہ باہر۔ پس جب لوگوں کو کچھ نظر ہی نہیں آتا تو وہ مجبور ہیں۔ دین کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کو آخرت پر نہیں چھوڑا جائے گا کیونکہ انسان دو دفعہ دنیا میں نہیں آتا اور یقینا نہیں پھر اگر اس دنیا میں انسان کو کچھ نظر نہ آئے اور اگلے جہان میں اس کو معلوم ہو کہ وہ جس راستہ پر چل رہا تھا غلط ہورہی ہے EXHIBITION( مگر