انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 165

۱۶۵ میں قائم ہے اور اس کے اثر کو لوگ قبول کرتے ہیں۔تمدن کے تمام شعبوں میں اس کا اثر پایا جاتا ہے مثلاً جب دو آدمی مصافحہ کرتے ہیں تو کوئی ان کو نہیں کہتا کہ تم لغو فعل کر رہے ہو اور نہ کوئی اتنا غور کرتا ہے کہ ہاتھ کے ملانے سے دونوں کو کیا خوشی ہوئی ہے۔مگر بات یہ ہے کہ یہ ہاتھوں کا ملانا ایک تصویری زبان ہے جو قدیم رسوم کے اثر کے نیچے اب تک چلی جاتی ہے اور اب گو اس کی وجہ لوگوں کو معلوم نہیں مگر اس کا رواج چلا جا رہا ہے اور دنیا کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل ہے کیونکہ محبتوں کے قیام اور تعلقات کے اظہار میں مُمِدّ ہے۔مگر پہلے پہل جب اس کا رواج ہوا تو اس طرح سے ہوا تھا کہ دو آدمی جب آپس میں اس امر کا معاہدہ کرتے تھے کہ ایک دوسرے کی مدد کرے گا اور حسب ضرورت اس کی طرف سے ہو کر لڑے گا تو چونکہ دماغ اور حملہ دونوں ہاتھوں کے ذریعہ سے ہوتے تھے اس لئے وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے تھے کہ اب جس پر تیرا ہاتھ اٹھے گا میرا اٹھے گا۔اب ہم دونوں کے ہاتھ ایک ہو گئے ہیں حملہ اور بچاؤ دونوں صورتوں میں یہ جمع رہیں گے دیکھو شروع میں کیسے خطرناک معاہدہ کے لئے یہ رسم جاری کی گئی مگر اب عام محبت کے اظہار کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے مگر پھر بھی ایک حد تک دنیا کو اس سے فائدہ پہنچ رہاہے اور اس کو چھوڑنے کے لئے لوگ تیار نہیں۔اسی طرح بوسہ کی رسم کی اصل وجہ بھی تصویری زبان ہے بوسہ درحقیقت چوسنے کی حرکت کے مشابہ ہے دراصل اس امر کے ذریعہ سے فطرت حیوانی (میں فطرت حیوانی ا س لئے کہتا ہوں کہ جانوروں میں بھی اس کاوجود پایا جاتا ہے) اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ میں اس شخص کے وجود کو جس کو میں بوسی دیتی ہوں اپنے سے جدا رہنے دینا نہیں چاہتی بلکہ چاہتی ہوں کہ یہ میرے جسم کا حصہ بن جائے۔غرض اشارات کی زبان ہمارے روز مرہ کے کاموں میں استعمال ہو رہی ہے اور اس سے عظیم الشان فوائد حاصل کئے جا رہے ہیں انہی میں قربانی ہے۔اگر غور کر کے دیکھا جائے تو جان کا قربان کرنا کوئی معمولی امر نہیں ہے اور طبیعت پر ایک گہرا اثر ڈالتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ذبح کرنے کے عادی ہو چکے ہیں دوسرے شخص کی طبیعت پر ضرور ذبح کرنے کا اثر ہوتا ہے اور اس وقت اس کے خیالات میں ایک وسیع ہیجان پیدا ہوتا ہے حتی کہ اسی کے اثر کے ماتحت بعض قوموں نے قربانی کو ظلم قرار دیا ہے۔یہ ان کا فعل تو کمزوری کی علامت ہے مگر اس میں شک نہیں کہ قربانی کا اثر طبیعت پر ضرور ہوتا ہے اسی اثر کو پیدا کرنے کے لئے قربانی کو عبادت میں شامل کیا