انوارالعلوم (جلد 8) — Page xx
الله کا مقابلہ کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد حضور نے حقوق العباد کے متعلق اسلامی تعلیم بڑے دلنشیں انداز میں تفصیل سے بیان فرمائی۔ حضور نے فرمایا کہ مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی تھا کہ آپ دنیا میں قیام امن کیلئے بھیجے گئے ہیں اس سلسلہ میں آپ نے درج ذیل تجاویز پیش فرمائیں۔ (1) تمام مذہبی راہنماؤں کا احترام کیا جائے۔ (۲) اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں دوسرے مذاہب پر حملہ نہ کیا جائے کیونکہ مذہب کی صداقت اس کی خوبیاں بیان کرنے سے خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے نہ کہ دوسروں کے نقائص بیان کرنے سے ۔ (۳) ہر مذہب اپنا دعوئی اور دلیل اپنی الہامی کتب سے پیش کرے۔ (۴) مذہب کی تعلیم کو مجمل بیان تک محدود نہ کیا جائے بلکہ اس پر عمل کر کے اس کے نتائج واضح کرنے چاہئیں۔ مذہب کا ایک اہم جزو حیات مابعد الموت ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل سوالات کے جوابات بھی حضور نے بیان فرمائے۔ (1) موت کے بعد زندگی کس طرح ظہور پذیر ہوگی؟ (۲) مرنے کے بعد کب زندگی شروع ہوگی؟ (۳) بهشت اور دوزخ کی کیا حقیقت ہے ؟ (۴) کیا بهشت و دوزخ ابدی ہیں ؟ اسلام کی برتری اور مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی غرض بیان کرنے کے بعد حضور نے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی صداقت کے ٹھوس دلائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جن دلائل سے گذشتہ انبیاء کرام کی صداقت ثابت ہوتی ہے انہی دلائل سے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ حضور نے آخر پر نہایت مؤثر انداز میں فرمایا ! بہنو اور بھائیو! خدا کی روشنی تمہارے لئے چمک اٹھی ہے۔۔۔۔ تم اس روشنی کو قبول کرو۔۔۔۔۔ خوش ہو جاؤ اے دُلہن کی سہیلیو! اور خوشی کے گیت گاؤ کیونکہ دلہا آپہنچا۔ وہ جس کی تلاش تھی مل گیا ہے۔ وہ جس کا انتظار کیا جا رہا تھا یہاں