انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 162

انوار العلوم جلد ۸ ۱۶۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام رکھا ہے وہ باقی مذاہب سے نرالی ہے۔ اسلام میں روزوں کی یہ صورت ہے کہ ہر بالغ عاقل کو برابر ایک مہینہ کے روزے رکھنے کا حکم ہے سوائے اس صورت کے کہ کوئی شخص بیمار ہو یا اسے بیماری کا یقین ہو یا سفر پر ہو یا بالکل بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہو ۔ ایسے لوگ جو بیمار ہوں یا سفر پر ہوں ان کے لئے حکم ہے کہ وہ دو وہ دوسرے اوقات پر روزه ر اوقات پر روزہ رکھیں اور : اور جو بالکل معذور ہو گئے ہوں ان کے لئے کوئی روزہ نہیں۔ روزہ کی یہ صورت ہے کہ پو پھٹنے سے لے کر سورج کے غروب تک کوئی چیز کھائے نہ پئے نہ کم نہ زیادہ اور نہ مخصوص تعلقات کی طرف توجہ کرے۔ پو پھٹنے سے پہلے چاہئے کہ کھانا کھانے اور پانی پی لے تا جسم پر غیر معمولی بوجھ نہ پڑے صرف شام ہی کو کھانا کھا کر متواتر روزے رکھنے کو شریعت نے ناپسند کیا ہے ۔ روزہ کی حکمتیں قرآن کریم نے یہ بتائی ہیں۔ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۔ تاکہ تم اللہ تعالٰی کی بڑائی کا اظہار کرو اس وجہ سے کہ اس نے تم کو سچا راستہ دکھایا ہے اور تاکہ تم میں شکر کرنے کا مادہ پیدا ہو یعنی ایک فائدہ تو یہ مد نظر ہے کہ تم ان دنوں میں بوجہ سارا دن کھانے پینے کے مشغلوں سے فارغ رہنے کے اور مادیت کی طرف سے توجہ کے ہٹ جانے کے اللہ تعالی کا ذکر زیادہ کرو گے ۔ دوسرے یہ فائدہ مد نظر ہے کہ اس طرح بھوک کی تکلیف محسوس کر کے تمہارے دل میں شکر گزاری کا مادہ پیدا ہو گا۔ کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جب تک اس کے پاس کوئی نعمت ہوتی ہے اس کی اسے قدر نہیں ہوتی جب چھن جائے تو اس کی قدر محسوس ہوتی ہے۔ بہت سے آنکھوں والے آدمیوں کے کبھی ساری عمر ذ ہن میں نہیں آتا کہ آنکھیں بھی کوئی بڑی نعمت ہیں لیکن جب کسی کی آنکھیں جاتی رہتی ہیں تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی کیسی نعمت ہیں۔ اسی طرح روزہ میں جب انسان بھوکا رہتا ہے اور اسے بھوک کی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ تو تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے کیسا آرام بخشا ہے اور یہ کہ اسے اس آرام کی زندگی کو نیک اور مفید کاموں میں صرف کرنا چاہئے نہ کہ لہو و لعب میں۔ پھر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ کی حکمت یہ ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ٨٩ تاکہ تم کو تقوی حاصل ہو یہ تَتَّقُونَ کا لفظ قرآن کریم میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے ایک دکھوں سے بچنے کے معنے میں دوسر۔ دوسرے گناہ سے بچنے کے معنوں میں اور تیسرے روحانیت کے اعلیٰ مدارج میرے کے حاصل کرنے کے متعلق ۔ پس اس لفظ کے ذریعہ سے تین علمتیں اللہ تعالیٰ نے روزہ کی بیان