انوارالعلوم (جلد 8) — Page 155
انوار العلوم جلد ۸ ۱۵۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام مذاہب کے متعلق ہو رہی ہے وہ اور نئے نئے مذاہب کو ان مذاہب کی صف میں لا کر کھڑا کر رہی ہے جن میں مذکورہ بالا پانچ قسم کی عبادات پائی جاتی ہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جبکہ نئی تحقیقات اس امر کو ثابت کر رہی ہیں کہ ان عبادات کا پتہ سب مذاہب میں ملتا ہے خیالات کی جدید رواس طرف جارہی ہے کہ ان عبادات کا کوئی فائدہ نہیں۔ خدا تعالیٰ کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے بندوں کو ان ظاہری شکلوں میں جکڑے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سے ظاہری عبادات کا اثر بہت کچھ مٹتا جاتا ہے اور اکثر مذاہب کے پیرو ظاہری عبادات کو بالکل ترک کرتے چلے جاتے ہیں۔ مگر اسلام جس طرح ہر زمانہ کی ضروریات کے لئے تعلیمات کا ذخیرہ رکھتا ہے اسی طرح اس کی یہ شان بھی ہے کہ اس کی قائم شدہ تعلیم بدلتی نہیں۔ وہ ایک چٹان کی طرح ہے جسے زمانہ کے سیلاب اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتے۔ وہ نیچر کی طرح نئے سے نئے انکشافات تو کرتا ہے مگر نیچر کی طرح اس میں یہ خاصیت بھی ہے کہ اس کا کوئی قانون بدلتا نہیں کیونکہ اس کے سب قوانین کی بنیاد عالم الغیب ہستی کی طرف سے حق اور حکمت پر رکھی گئی ہے۔ یا د رکھنا چاہئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلق کی بنیا د دل پر ہے اگر دل گندہ ہو اور محبت سے خالی ہو تو ظاہر میں کتنی ہی فروتنی دکھائی جائے یا اخلاص کا اظہار کیا جائے اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا فعل ایک لعنت ہے جو اپنے مرتکب کو تاریکی کے عمیق گڑھوں میں گرا دیتا ہے۔ قرآن کریم نہ صرف اس نکتہ کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس پر خاص طور سے زور دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ - الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ٩ یعنی خدا تعالی کا غضب نازل ہو گا ان لوگوں پر جو عبادت تو کرتے ہیں مگر اس کی حقیقت سے غافل ہیں اور صرف لوگوں کے دکھاوے کے لئے نماز پڑھ لیتے ہیں اسی طرح فرماتا ہے کہ جو لوگ صدقات دکھاوے کے طور پر دیتے ہیں مگر دل میں کوئی اخلاص نہیں ہوتا فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانِ عَلَيْهِ تُرَابُ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ، ان کی حالت اس پتھر کی طرح ہوتی ہے جس پر مٹی جھی ہوئی ہو اور جب بارش اس پر پڑے تو بجائے اس کے کہ دانہ اگے وہ مٹی کو بھی بہا دیتی ہے اور دانہ اگنے کا احتمال بھی باقی نہیں رہتا۔ اس قسم کا صدقہ دینے والا بھی بجائے کسی فضل کا وارث ہونے کے اپنی حالت کو اور بھی خراب کر لیتا ہے پس اسلام کے نزدیک جب تک دل ساتھ نہ ہو اس وقت تک عبادت نفع نہیں دیتی لیکن اسلام اس امر پر بھی زور دیتا ہے کہ دل کے ساتھ زبان اور جسم بھی عبادت میں شامل ہونے چاہئیں ۔