انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 153

۱۵۳ آپ نے فرمایا یہ توکل نہیں ہے۔تو پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھ پھر خدا پر توکل کر آپ مطلب یہ ہے کہ توکل ترک اسباب کا نام نہیں بلکہ اس امر پر یقین کا نام ہے کہ خدا تعالیٰ ایک زندہ خدا ہے وہ دنیا کو پیدا کر کے خالی ہاتھ ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلک اب بھی اس کا حکم دنیا میں چلتا ہے سب کاموں کے نتیجے اسی کے حکم سے نکلتے ہیں۔وہ اس بندے کی جو اس پر یقین رکھتا ہے اس وقت حفاظت کرتا ہے جب وہ غافل ہوتا ہے اور اس حالت میں اس کے کام کی نگرانی کرتا ہے جب وہ سامنے نہیں ہوتا۔غرض اس امر پر یقین کرنے کا نام کہ خدا تعالیٰ اب بھی اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کی بے کسی کی حالتون میں ان کا ساتھ دیتا ہے او رباوجود سامانوں کی موجودگی کے اگر اس کا غضب نازل ہو تو کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی توکل ہے نہ ترک اسباب۔گویا توکل ایک دلی حالت کو کہتے ہیں نہ کسی ظاہری عمل یا ترک عمل کو۔اسی طرح ایک جگہ فرماتا ہے وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ (التوبة:72) اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے مقدم ہے یعنی بندہ کو خدا تعالیٰ سے تعلق کی بنیاد کسی دنیوی یا اخروی انعام پر نہیں رکھنی چاہئے بلکہ جو چیز اس کے مدنظر ہونی چاہئے وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا ہے جب خدا تعالیٰ اس کا محبوب ہو تو اس کی رضا پر کسی اور چیز کو مقدم کرنا اپنی محبت کی ہتک کرنا ہے۔مذکورہ بالا حوالوں سے جو صرف بطور نمونہ دئیے گئے ہیں یہ اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اسلام بندہ سے خدا تعالیٰ سے کس قسم کا تعلق رکھنے کی امید کرتا ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے ہر ایک شخص جو خدا تعالیٰ کو فی الواقع مانتا ہے اس امر میں ہم سے متفق ہو گا کہ اگر کوئی خدا ہے تو اس سے ہمارا ایسا ہی تعلق ہونا چاہئے۔" تیسرا سوال "یعنی کن اعمال سے بندہ اپنے تعلق باللہ کا اظہار کرے؟ یا یہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟ دوسرے سوال کا جواب دینے کے بعد میں تیسرے سوال کو لیتا ہوں اس سوال کا جواب