انوارالعلوم (جلد 8) — Page 152
۱۵۲ وَعَلَى جُنُوبِهِمْ (آل عمران:192) مومن صرف وہ لوگ ہیں جن کے دل پر خدا تعالیٰ کا ایسا رعب ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا نام ان کی مجلس میں آ جائے تو ان کے دلوں میں خشیت اللہ کی ایک لہر پیدا ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا کلام ان کے سامنے پڑھا جائے تو ان کا دل ایمان سے بھر جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں یعنی ہر اک کام کا انجام پانا اسی کی مدد پر موقوف سمجھتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کو اسی کے فضل پر منحصر خیال کرتے ہیں۔میں اس جگہ ایک شبہ کا ازالہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں جو عام طور پر اسلام کی نسبت کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ اسباب سے انسان کو کوئی کام ہی نہیں لینا چاہئے اور اپنے کام خدا پر چھوڑ دینے چاہئیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض لوگوں میں ایسے خیالات پائے جاتے ہیں مگر اسلام کی ہرگز یہ تعلیم نہیں تمام قرآن ان آیات سے بھرا ہوا ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم نے انسان کے فائدے کے لئے پیدا کی ہیں۔پس ان کو ترک کرنا اس کے منشاء کے مطابق کس طرح ہو سکتا ہے اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا (البقرة:190) اور ہر کام کے لئے ہم نے جو طریق مقرر کئے ہیں ان کے ذریعہ سے وہ کام کرو یعنی اسباب اور ذرائع بھی اللہ تعالیٰ کے پید اکردہ ہیں انہی کے کام کرنا چاہئے۔اور فرمایا خُذُوا حِذْرَكُمْ (النساء:72) اے مسلمانو! تمام وہ سامان جن سے کامیابی ہو سکتی ہے اپنے پاس رکھو اور ایک جگہ فرمایا وَتَزَوَّدُوا (البقرة:198) جب سفر کو نکلو تو اپنے پاس سفر کا سامان ضرور رکھا کرو اسی طرح رسول کریم ﷺ کی نسبت آتا ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس یا آپ نے اس سے پوچھا کہ تُو نے اونٹ کس کے حوالے کیا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ! میں نے خدا پر توکل کر کے اس کو چھوڑ دیا ہے۔