انوارالعلوم (جلد 8) — Page 150
انوار العلوم جلد ۸ ۱۵۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تفصیل کے ساتھ ہر اک صفت کا ذکر کرتا ہے اور اس کا جو اثر روزانہ زندگی کے حالات پر پڑتا ہے اس کو بیان کرتا ہے اور مختلف صفات کے آپس میں تعلقات اور اس کے اثر کی حد بندیوں کو بھی بیان فرماتا ہے ۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وجود بندہ کی عقل کی آنکھوں کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور اس کا دل خدا کی محبت سے لبریز ہو کر بہہ پڑتا ہے اور اس کے ساتھ صفات الہیہ کے بیان کرنے میں جو دوسرے مذاہب کو اشتراک ہے وہ صرف نام کا ہے نہ حقیقت کا حالانکہ اصل چیز حقیقت ہوتی ہے نہ کہ محض نام - دوسراسوال ذات و صفات باری کے متعلق جو ا جو اسلام کی تعلیم ہے اس کو مختصر بیان خدا سے بندہ کا تعلق کر دینے کے بعد اب میں مقصد اول کے دوسرے سوال کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ بندے کو خدا سے کیا تعلق ہونا چاہئے؟ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف کسی چیز کو مان لینا اور بات ہے تمام تعلیم یافتہ لوگ نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے وجود پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان سے تعلق سوائے ان چند لوگوں کے جو ان علاقوں کی مزید تحقیقات میں مشغول ہیں کسی کو نہیں ہے ان کے ذکر سے ان کے جذبات میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی لیکن ایک ایسے شخص کے ذکر سے جو ان سے کوئی حقیقی تعلق رکھتا ہے ان کے جذبات یک دم بھڑک اٹھتے ہیں۔ پس یہ بھی سوال ہے کہ کوئی مذہب اپنے پیروؤں سے خدا تعالیٰ کے متعلق کسی قسم کے تعلق کا مطالبہ کرتا ہے کیونکہ اسی مطالبہ کے معیار پر کسی مذہب کی سچائی یا اس کی غلطی یا اس کی قبولیت یا اس کی ناکامی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اگر وہ ایسا مطالبہ اپنے متبعین سے کرتا ہے جو خدا تعالی کی شان کے خلاف ہے تو ماننا پڑے گا کہ صفات الہیہ پر حقیقی ایمان نہیں رکھتا اور اگر مطالبہ تو صحیح ہے لیکن اس کے پیرو اس مطالبہ کو پورا نہیں کرتے تو ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب اپنے مقصد کے پورا کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات پہلے بیان کر چکا ہوں اور وں اور جن پر تمام مذاہب قریباً متفق ہیں ! ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا اصل تعلق اللہ تعالی سے ہی ۔ سے ہی ہے کیونکہ : نکہ ہمارے آرام اور ہماری : ترقی اور ہماری کامیابی کے سب سامان اسی نے پیدا کئے ہیں۔ ہماری ہستی کے وجود میں لانے کا بھی وہی