انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 146

۱۴۶ بعض لوگوں کی غلطیوں کے سبب تکلیف تو پہنچ جاتی ہے۔اس کا جواب ہماری شریعت یہ دیتی ہے کہ ہر اک وہ تکلیف جو انسان کو ایسے امور کی وجہ سے ملتی ہے جن میں اس کا اپنا دخل نہیں اس کا موازنہ کر لیا جائے گا اور انسان کی روحانی ترقیا ت کے وقت اس کو مدنظر رکھا جائے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ (الأَعراف:9) اس جزائے عظیم کے وقت ان امور کو مدنظر رکھا جائے گا جو کسی انسان کی ترقی میں حائل تھے اور جن میں اس کا کوئی دخل نہ تھا۔ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ (النساء:96) یعنی مومنوں میں سے جو لوگ دین کی خدمت کرتے ہیں اور وہ جو نہیں کرتے وہ برابر نہیں ہو سکتے۔مگر وہ لوگ جو خدمت میں اس لئے کوتاہی کرتے ہیں کہ ان کو کوئی طبعی نقصان پہنچ گیا ہے ان کے متعلق یہ حکم نہیں ہے۔ان کی اس معذوری کو اللہ تعالیٰ مدنظر رکھے گا۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ما یزال البلاء بالمومن و المومنۃ فی نفسہ و ولدہ و مالہ حتی یلقی اللہ و ما علیہ خطیئۃ مومن مرد ہو یا عورت اس کو کوئی طبعی تکلیف نہیں پہنچتی۔خواہ نفس کے متعلق خواہ اولاد کے متعلق خواہ مال کے متعلق مگر اس کے بدلہ میں اس کی خطائیں کم ہوتی جاتی ہیں اور ان تکالیف کو برداشت کرنے کے سبب سے ان کی روح میں پاکیزگی کی ایک ایسی طاقت پیدا ہوتی جاتی ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰٰ سے ملیں گے تو اس وقت تک پاک ہو چکے ہوں گے۔اس جگہ یہ دھوکا نہ لگے کہ یہ حکم صرف مومنوں کے لئے ہے فائدہ ہر اک کو اپنے حق کے مطابق پہنچتا ہے۔قرآن کریم کا فیصلہ عام ہے حدیث میں چونکہ مسلمانوں کے سوال کے جواب میں یہ بات بتائی گئی ہے اس لئے ان کو مخاطب کیا گیا ہے۔اب دیکھو ایک ہی صفت کی تشریح میں مذاہب میں کہاں سے کہاں تک اختلاف پہنچ گیا ہے۔اسلام نے اس کا مفہوم اور لیا ہے اور بعض دوسرے مذاہب نے اور۔انہوں نے صفت رحم کو قائم رکھنے کے لئے تناسخ کا مسئلہ پیش کیا ہے حالانکہ ایک ادنیٰ تدبیر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اسلام کی تشریح بالکل طبعی اور قانون قدرت کے مطابق ہے اور دوسری تشریح کی بناء ہمیں بعض ایسے مفروضہ امور پر رکھنی پڑتی ہے جو ثابت نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات عدل اور رحم بھی قابل توجہ ہیں۔تمام مذاہب خدا تعالیٰ کو عادل بھی مانتے ہیں اور رحیم بھی لیکن تشریح میں بڑا اختلاف ہے اسلام کہتا ہے کہ ان دونوں صفات میں اختلاف