انوارالعلوم (جلد 8) — Page xvii
۱۰ میں جو غیر معمولی تغیر واقع ہوا اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات نے میری زندگی کے ایک نئے دور کو شروع کیا اس دن سے میری طبیعت میں دین کے کاموں میں اور سلسلہ کی ضروریات میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوئی اور وہ بیج بڑھتا چلا گیا۔۔۔۔ مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات پر مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا ان کی روح مجھ پر آن پڑی ہے۔ " اخبار الفضل کے اجراء کا ذکر کرتے ہوئے اپنی حرم محترم حضرت ام ناصر کے ایثار و قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ کیا ہی سچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کارکن ہوتی ہے اس کی مثال اس گلاب کے پھول کی سی ہے جس سے عطر تیار کیا جاتا ہے لوگ اس دکان کو تو یاد رکھتے ہیں جہاں سے عطر خریدتے ہیں مگر اس گلاب کا کسی کو خیال نہیں آتا جس سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔ جس نے مرکز ان کی خوشی کا سامان پیدا کیا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالی یہ سامان پیدا نہ کرتا تو اس وقت میں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کون سا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روز مرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دور کیا جاتا۔" (۷) دورہ یورپ امام جماعت احمدیہ کا عزم یورپ ۱۹۲۴ء میں انگلستان میں ویمبلے کے مقام پر منعقد ہونے والی مذہبی کانفرنس کے منتظمین نے حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ حضور نے اس بارہ میں مشورہ کے لئے جماعتوں کو خطوط لکھے اور چالیس سے زیادہ آدمیوں سے استخارہ کروایا ۔ کثرت رائے حضور کے جلسہ میں بنفس نفیس شرکت کے حق میں تھی۔ اس پر حضور نے اپنے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے جو مضمون رقم فرمایا۔ اس میں آپ نے مشکلات اور نامساعد حالات اور دوسری طرف سفر کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی فرائض مقدم ہیں اور اس سفر سے رسول