انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xv

اس شبہ کا ازالہ صرف اسلام ہی کرتا ہے کہ اس کی تعلیم پر چل کر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو کہ صفات الہیہ کے مظہر ہوتے ہیں اور جو پہلے خود اپنی ذات پر صفات الہیہ کا پر تو ڈالتے اور پھر دوسروں کو اس کا نشان دکھاتے ہیں۔ اور ہستی باری کا کامل عرفان بخشتے ہیں چنانچہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے کہ لوگ اس کے وجود کو پہچانیں اور شک و شبہ کی زندگی سے پاک ہوں حضرت مسیح موعود کو بھیجا تھا۔" اس کے بعد حضرت مصلح موعود نے اخلاق کی مختلف جہات کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیم ہی سب سے کامل ہے اور کوئی دوسرا مذہب اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ پھر آپ نے اخلاق حسنہ کے حصول اور اخلاق سینہ سے بچنے کے ذرائع کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور اخلاق کی درستگی کے بارے میں اسلام کی جو تعلیم ہے اس کو بیان کیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے تمدن کے بارے میں اسلام کی تعلیم بیان کی ہے اور نہایت لطیف پیرایہ میں اخلاق اور تمدن کے فرق کو واضح کیا ہے آپ فرماتے ہیں:۔ اخلاق اور تمدن میں در حقیقت یہی فرق ہے کہ علم اخلاق تو افراد کی پاکیزگی سے بحث کرتا ہے اور علم تمدن قومی پاکیزگی سے بحث کرتا ہے۔" اس ذیل میں انسان کے معاشرہ میں مختلف لوگوں سے جو تعلقات ہیں وہ کن خطوط پر استوار ہونے چاہئیں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد حضور نے عام شہریت کے اصول بیان کئے ہیں۔ سے بیان کئے ہیں اس کے بعد آپ نے حکومت اور رعایا کے فرائض اور حقوق تفصیل۔ اور پھر اس مضمون کو مزید وسیع کرتے ہوئے حکومتوں کے آپس کے تعلقات کس قسم کے ہونے چاہئیں اس پر روشنی ڈالی ہے اور مختلف ملکوں میں تنازعات کے حل کے لئے آپ نے قرآن کریم کے زریں اصول بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ اگر لیگ آف نیشنز کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی جائے گی تو وہ کامیاب ہوگی۔ ات مَا بَعْدَ الْمَوْتِ کے بارے میں روح کتاب کے آخر پر حضور نے حالات شنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ اگلے جہان میں جو ثواب و عذاب ملیں گے ان کی حقیقت کیا ہو گی۔ سب سے دلچسپ