انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 104

۱۰۴ یہ بھی شرط چاہئے کہ اس کے مخصوص تمدنی قوانین کے خلاف بھی قانون نہیں بنا سکتی اور نہ ان امور کے متعلق جو دو قوموں میں مابه الزاع ہوں جیسے گائے کی قربانی کا سوال ہے۔اور پھر یہ بھی شرط ہونی چاہئے کہ ایسے امور میں نہ صرف مذاہب کے کثیرالتعداد فرقوں کے خیالات کا احترام کیا جائے گا بلکہ اگر قليل التعد اد فرقہ کثیر التعداد کے خلاف ہو تو اس کے لئے بھی کوئی قانون اس کی مرضی کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔مثلا ًاگر ایک امرکے متعلق حنفی المذہب ممبر متفق ہو جائیں لیکن شیعہ یا اہلحدیث یا احمدی اس کے خلاف ہوں تو اس مذہبی یا تمدنی اصول پر اثر رکھنے والے قانون کا ان پر نفاذ نہ ہو سکے گا۔آٹھویں بات جس کا تصفیہ اصلاح بین الا قوام کے لئے ضروری ہے یہ ہے کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جن کی مدد سے اُس وقت کہ دو قوموں میں جھگڑا پیدا ہو جائے فساد کو روکا جا سکے اور اس کو پھیلنے نہ دیا جائے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے تمام فیصلوں میں اس امر کو بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے اس لئے جب بھی فساد پڑا ہے اس کا رونا بالکل ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ فساد کی صورت کے رونما ہونے کے بعد طبائع جوش میں آجاتی ہیں اور اس وقت ان کو وہی شخص اچھا لگتا ہے جو ان کے جوش کے خیالات کا مؤید ہو ایسے وقت میں بعض شرپسند آدمی اٹھ کر مشتعل شد ہ طبائع کو اور بھی بھڑکا کر ان کے لیڈ ر بن جاتے ہیں اور فساد ان حدود سے نکل جاتا ہے جن میں اسے مقیّد رکھا جاسکتا تھا۔دوسرے یہ نقص ہوتا ہے کہ چو نکہ فسادات کے روکنے یا ان کو آگے نہ بڑھنے دینے کے لئے کوئی ذریعہ قبل از وقت مقرر نہیں ہوتا اس بات کے متعلق سوچتے سوچتے کہ اس کا کیا علاج کیا جائے لوگ اس امر سے مایوس ہو جاتے ہیں کہ کوئی بیرونی طاقت ہما ر ا فیصلہ کرے گی اور وہ خودہی فیصلہ کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں جس کے جونتائج پیدا ہوتے ہیں ظاہر ہی ہیں۔تیسرا نقص یہ ہوتا ہے کہ چونکہ ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے صحیح طور سے کسی فریق پر ذمہ داری عائد کی جا سکے اس لئے ذمہ داری کے معیّن نہ ہونے کی وجہ سے ظالم فریق بھی شورمچاتا رہتا ہے کہ میں مظلوم ہوں اور مظلوم فریق کا غصہ اس حالت کو دیکھ کر اور بڑھ جاتا ہے اور یہ نقص بھی ہوتا ہے کہ ذمہ داری کے معین نہ ہونے کے سبب سے تمام فریق کے اہم مذہب بھی طبعاً اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جس سے مظلوم فریق کے احساسات کو اور بھی ٹھوکر لگتی ہے۔