انوارالعلوم (جلد 8) — Page 104
انوار العلوم جلد ۸ ۱۰۴ اساس الاتحاد یہ بھی شرط چاہئے کہ اس کے مخصوص تمدنی قوانین کے خلاف بھی قانون نہیں بنا سکتی اور نہ ان امور کے متعلق جو دو قوموں میں مَا بِهِ النزاع ہوں جیسے گائے کی قربانی کا سوال ہے۔ اور پھر یہ بھی شرط ہونی چاہئے کہ ایسے امور میں نہ صرف مذاہب کے کثیر التعداد فرقوں کے خیالات کا احترام کیا جائے گا بلکہ اگر قلیل التعداد فرقہ کثیر التعداد کے خلاف ہو تو اس کے لئے بھی ! کوئی قانون اس کی مرضی کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ مثلاً اگر ایک امر کے متعلق حنفی المذہب ممبر متفق ہو جائیں لیکن شیعہ یا اہلحدیث یا احمدی اس کے خلاف ہوں تو اس مذہبی یا تمدنی اصول پر اثر رکھنے والے قانون کا ان پر نفاذ نہ ہو سکے گا۔ آٹھویں بات جس کا تصفیہ اصلاح بین الاقوام کے لئے ضروری ہے یہ ہے کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جن کی مدد سے اُس وقت کہ دو قوموں میں جھگڑا پیدا ہو جائے فساد کو روکا جا سکے اور اس کو پھیلنے نہ دیا جائے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے تمام فیصلوں میں اس امر کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے اس لئے جب بھی فساد پڑا ہے اس کا رو کنا بالکل نا ممکن ہو گیا ہے کیونکہ فساد کی صورت کے رونما ہونے کے بعد طبائع جوش میں آجاتی ہیں اور اس وقت ان کو وہی شخص اچھا لگتا ہے جو ان کے جوش کے خیالات کا مؤید ہو ایسے وقت میں بعض شر پسند آدمی اٹھ کر مشتعل شدہ طبائع کو اور بھی بھڑکا کر ان کے لیڈر بن جاتے ہیں اور فسادان حدود سے نکل جاتا ہے جن میں اسے مقید رکھا جا سکتا تھا۔ دوسرے یہ نقص ہوتا ہے کہ چونکہ فسادات کے روکنے یا ان کو آگے نہ بڑھنے دینے کے لئے کوئی ذریعہ قبل از وقت مقرر نہیں ہوتا اس بات کے متعلق سوچتے سوچتے کہ اس کا کیا علاج کیا جائے لوگ اس امر سے مایوس ہو جاتے ہیں کہ کوئی بیرونی طاقت ہمارا فیصلہ کرے گی اور وہ خود ہی فیصلہ کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں جس کے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ظاہر ہی ہیں۔ تیسرا نقص یہ ہوتا ہے کہ چونکہ ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے صحیح طور سے کسی فریق پر ذمہ داری عائد کی جاسکے اس لئے ذمہ داری کے معین نہ ہونے کی وجہ سے ظالم فریق بھی شور مچاتا رہتا ہے کہ میں مظلوم ہوں اور مظلوم فریق کا غصہ اس حالت کو دیکھ کر اور بڑھ جاتا ہے اور یہ نقص بھی ہوتا ہے کہ ذمہ داری کے معین نہ ہونے کے سبب سے ظالم فریق کے ہم مذہب بھی طبعاً اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جس سے مظلوم فریق کے احساسات کو اور کی احساسات کو اور بھی ٹھوکر لگتی ہے۔