انوارالعلوم (جلد 8) — Page 103
انوا را اعلوم جلد ۸ ۱۰۳ اساس الاتحاد کہلانے کے لئے زیادہ حقدار ہوں گے ۔ ساتویں احتیاط یہ ضروری ہے کہ ایسے قواعد تجویز کئے جائیں کہ جن کی موجودگی میں کثیر التعداد قو میں قلیل التعداد قوموں پر ظلم نہ کر سکیں یا ایسے قواعد نہ بنا سکیں جو ان کے عقائد یا احساسات کے خلاف ہوں۔ پچھلے سمجھوتے میں اس کا تدارک کرنے کے لئے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ کسی کے مذہب کے متعلق کوئی ایسا قاعدہ نہیں بنایا جاسکے گا جب تک اس قوم کے تین چوتھائی نمائندے اس کے ساتھ متفق نہ ہوں لیکن یہ سمجھوتہ کافی نہیں تھا۔ مذہبی امور میں دست اندازی بھی گو ممکن ہے لیکن اس تعلیم کے زمانہ میں ایک قوم دوسری قوم پر اس طرح ظلم نہیں کیا کرتی کیونکہ اسے خوف ہوتا ہے کہ دنیا کی رائے عامہ اس کے خلاف ہو جائے گی۔ پس اس امر کا چنداں خوف نہیں کہ کوئی حکومت کبھی اس امر کا قانون بنانا چاہے کہ مسلمان روزے نہ رکھیں یا یہ کہ نماز نہ پڑھیں یا یہ کہ حج نہ کریں۔ جس امر کا خوف ہے وہ یہ ہے کہ ایسے قوانین نہ بنائے جائیں جو بظاہر تو سیاسی یا تمدنی ہوں لیکن ان کا اثر دوسری قوم کے مذہب یا اس کے وقار کے خلاف ہو۔ مثلا گائے کی قربانی کو بند کر دیا جائے اور مذہبی سوال کی بناء پر نہیں بلکہ یہ کہہ کر کہ ہے ملک میں گائیں کم ہو گئی ہیں ، ہیں اس لئے زراعت اور دودھ، گھی کی حفاظت کے لئے ایسا کیا جاتا۔ اور یہ تمدنی سوال ہے مذہبی نہیں۔ یا یہ کہ ایک سے زیادہ شادیوں کا قانون پاس کر دیا جائے ۔ نیہ ایسے امور ہیں کہ بظاہر تمدنی نظر آتے ہیں لیکن ان مسائل میں اسلام کو ایک خاص تعلق ہے گائے ہی قربان کرنے کا حکم مسلمانوں کو نہیں ہے لیکن گائے کی قربانی کے معاملہ میں چونکہ ہندو مسلم تعلقات کو دخل ہے اس لئے ایسا قانون سیاسی نہیں بلکہ مذہبی دست اندازی سمجھا جائے گا۔ ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کا حکم اسلام نہیں دیتا مگر چونکہ اس اسلامی رخص امی رخصت پر دنیا اعتراض کرتی ہے اس امتیاز کے خلاف قانون پاس کرنے کے معنے ہی یہ ہوں گے کہ اسلام کے احکام کے ناقص ہونے کا فیصلہ دیا گیا ہے کیونکہ ایسے امور کا تقاضا سیاست ملکی نہیں کرتی بلکہ اصلاح تمدن ان کا مقتضی ہوتا ہے پس ان امور میں کسی مذہب کی اجازت کے خلاف فیصلہ کرنے کے یقینا یہ معنے ہیں کہ اس کی اجازت کو نا واجب قرار دیا گیا ہے۔ غرض جن امور میں اختلاف اور ظلم کا خوف ہے وہ وہ ایسے ایسے امور امور ہیں ہیں کہ کہ جن میں یہ بین الاقوا الاقوامی اختلاف ہے یا اسلام جن میں دوسری قوموں کے سامنے محل اعتراض ہے پس سمجھوتے میں یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مذہبی امور میں ایک قوم دوسری قوم کے خلاف منشاء قانون نہیں بنا سکتی بلکہ