انوارالعلوم (جلد 8) — Page 97
۹۷ کی طرف کھنچا چلا جائے گا اور ہزار صلح بھی ہو رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والی قوم سے صلح نہیں رکھ سکے گا کیونکہ اس کے ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ جنگل کے درندوں او ربَن کے سانپوں سے تو وہ صلح کرلے لیکن ان بد بخت لوگوں سے صلح نہ کرے جو اس مقدس وجود کو گالیاں دیتے ہیں جس کے احسان کے نیچے ہماری گردنیں جھکی پڑی ہیں اور جس کی جوتیوں کی خاک ہمارے سروں کے لئے باعث ِعزت ہے۔تیسرا امر جس کے بغیر صلح مکمل اور دیرپا نہیں ہو سکتی یہ ہے کہ اقوام آپس میں معاہدہ کریں کہ مذہبی مناقشات اور مباحثات میں محبت اور تحقیق کو چھوڑ کر لڑائی اور جھگڑے کی طرح نہ ڈالی جائے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سیاست کے فیصلے کے ساتھ مذہب کا کیا تعلق ہے لیکن یہ خیال درست نہیں جب دو قوموں میں لڑائی ہوتی ہے تو وہ بھی اسی تک محدود نہیں رہی جس کے متعلق لڑائی ہو بلکہ وہ اپنا دامن وسیع کرتی ہے اور آخر ہرا یک چیز کا احاطہ کر لیتی ہے پس اگر مذہبی لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا یا اس کے اسباب موجود رہے تو کبھی بھی صلح قائم نہ رہے گی۔مگر سوال یہ ہے کہ مدعا کس طرح حاصل کیا جائے؟ بعض لوگ اس کا یہ علاج بتاتے ہیں کہ مذہبی مباحثات کا سلسلہ ہی بالکل بند کردیا جائے لیکن یہ تدبیر غیر طبعی ہے ایک طرف تو افراد ِملک کے اندر یہ جوش پیدا کرنا کہ ہر اچھی چیز کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور دوسری طرف ان کو مذہب میں دلچسپی لینے سے روکنایہ ایسی متضاد باتیں ہیں کہ کبھی جمع نہیں ہو سکتیں۔اورمذہب تو ایسی طاقت ہے کہ اسے یورپ کی مادہ پرستی نہیں دباسکی۔ایشیا کی بو ئے عرفان سے بسی ہوئی ہواؤں کی موجودگی میں اس کی شگفتگی کو کون روک سکتا ہے۔پس وہی تجویز یہاں کامیاب ہو سکتی ہے جو ایک طرف تومذہب کی حدود میں دست اندازی نہ کرے اور دوسری طرف ایک حد بندیاں مقرر کردے جو فسادات کے احتمال کو یا بالکل روک دیں یا اس حد تک کم کردیں کہ اس کو آسانی اور سہولت سے دبایا جا سکے اور یہ غرض میرے نزدیک صرف ان ہی تجاویز سے پوری ہو سکتی ہے جو الحكم العدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے پیش فرمائی ہیں۔ہم بارہا گورنمنٹ کو ان کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں لیکن گو ر نمنٹ ان کی خوبی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو نا قابل عمل قرار دیتی رہی ہے مگر ہمیں یقین ہے کہ گورنمنٹ کا یہ جواب درست نہیں۔یہ تجاویز بآسانی عمل میں آسکتی ہیں اور ان کے ذریعہ سے ملک میں امن قائم کیا جا سکتا ہے اور میں آج آپ لوگوں کے سامنے ان کو اس امید سے