انوارالعلوم (جلد 8) — Page xiii
។ میرا سینہ آپ لوگوں کی خیر خواہی کے جذبات سے پُر ہے اور میرا دماغ ان خیالات سے معمور" نیز فرمایا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کی حقیقت اور میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ اس کا مغز بالکل درست ہے اور خدا تعالی کی منشاء کے مطابق۔۔۔ إِنْشَاء الله کا بالکل ہے اور خدا آپ لوگ دیکھیں گے کہ ہو گا اس طرح جس طرح میں نے لکھا ہے۔“ (۵) احمدیت یعنی حقیقی اسلام ۱۹۲۴ء کے سال کو جماعت احمدیہ کی تاریخ میں خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سال لندن میں وہ مبلے نمائش منعقد ہوئی جس کے پروگرام میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ ایک مذہبی کا نفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں دنیا کے تمام مذاہب کے چوٹی کے علماء کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیوں کے بارے میں لیکچر دیں۔ اس کانفرنس میں امام جماعت احمدیہ حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ حضرت مصلح موعود نے اس کانفرنس کے لئے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے نام سے (۲۴) بھی کم عرصہ میں ایک ضخیم کتاب تصنیف فرمائی۔ پھر اس کا مئی تا ۶ جون ۱۹۲۴ء) دو ہفتہ سے خلاصہ حضور کی موجودگی میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اس کا نفرنس میں پڑھ کر سنایا۔ یہ لیکچر ایسا منفرد اور اچھوتا تھا کہ عیسائیت کے بڑے بڑے لیڈر بھی بے اختیار بول اٹھے کہ بلاشبہ اس مضمون میں جو خیالات بیان کئے گئے ہیں وہ تربیت، دلائل اور اپنی خوبی و حسن کے لحاظ سے اچھوتے اور منفرد ہیں۔ چنانچہ اس لیکچر کے ذریعہ خدا نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام دنیائے مذاہب کے بڑے بڑے لیڈروں کو اس طرح پہنچانے کا موقع دیا کہ وہ بھی اسلام کی حقانیت کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ مضمون کے خاتمہ پر اس مجلس کے پریذیڈنٹ نے کہا کہ مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرالیا ہے۔ ایک اور صاحب جو فرانس سے انہوں نے کہا کہ آپ کا مضمون سن کر میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ واقعی اسلام تشریف لائے تھے ان