انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 93

انوار العلوم جلد ۸ ۹۳ اساس الاتحاد رکھتے کہ مال اندیشی سے کام لیں بلکہ وہ صرف اس امر کو دیکھتے ہیں کہ ہمارے ٹھیں کھاتے ہوئے جذبات کا کوئی بدلہ ضرور ملنا چائے پس کوئی اتحاد قائم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ان لوگوں کے جذبات کو مد نظر نہ رکھا جائے ۔ فتنہ کو مٹایا نہ جائے اور اس غرض کے پورا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام الناس سے ان قربانیوں کا مطالبہ نہ کیا جائے گا جن کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر ان کی روایات اور عادات اور جذبات کے خلاف مطالبہ کیا جائے گا تو وہ بھی کبھی اس کو برداشت نہیں کر سکیں گے اور لیڈر خواہ کس قدر ہی فراخ دلی کا ثبوت دیں عوام الناس کو وہ اپنے ساتھ شامل نہیں رکھ سکیں گے۔ پیچھے جو سمجھوتہ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے کیا گیا تھا اس میں یہ شرط کی گئی تھی کہ گائے کی قربانی کو مسلمان بہ طیب خاطر چھوڑ دیں۔ یہ سمجھو تہ عام مسلمانوں کے قومی جذبات اور احساسات بلکہ ان کی تمدنی ضروریات کے لحاظ سے بھی غیر طبعی تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فسادات اور بھی ترقی کر گئے ۔ علاوہ ازیں سیاستاً بھی یہ سمجھوتہ درست نہ تھا۔ اگر مسلمان لیڈر جو اس سمجھوتے میں شامل ہوئے تھے ہندو قوم کی بناوٹ پر غور کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ گائے کا سوال مذہبی نہیں بلکہ پولیٹیکل ہے خود ویدوں میں ہم لکھا ہوا دیکھتے ہیں کہ ست جگ میں اور رشیوں کے زمانہ میں ہندوستان میں علی الاعلان گائے کے گوشت کے کباب بنائے جاتے تھے اور کھائے جاتے تھے اور آج سے کچھ عرصہ پہلے سوائے پنجاب کے ہندوستان میں گائے کی قربانی علی الاعلان ہوتی تھی پھر اب جو اس سوال کو اٹھایا گیا ہے تو کیوں؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے ہندو قوم میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ہندو مذہب کی تعریف کیا ہے بڑے بڑے مدبروں نے غور کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہندومت ایک مذہب نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے مجموعے کا نام ہے جو بیرونی حملہ آوروں کے حملوں کے روکنے کے لئے ایک نام کے نیچے جمع ہو گئے تھے اس زمانہ میں جبکہ جتھاداری اور کثرت قومی ایک نہایت ضروری امر سمجھا جاتا ہے اس انکشاف کا اثر جو ہندو لیڈروں پر ہو سکتا تھا وہ ظاہر ہی ہے ان سے یہ امر مخفی نہ تھا کہ اگر یہ امر اہل ہنود کے مختلف فرقوں پر ظاہر ہوتا چلا گیا تو جس طرح سکھ الگ ہو گئے ہیں وہ فرقے بھی الگ ہو جائیں گے اور ان کی موجودہ طاقت ٹوٹ جائے گی اس اندیشہ کو دور کرنے کے لئے انہوں نے یہ تجویز کی کہ مختلف ہندو فرقوں میں جو بڑے بڑے مَا بِهِ الاشْتِرَاک ہیں ان کو معلوم کر کے ان پر خاص طور پر زور دیا جائے اور ان کو مذہب کی جڑ قرار دیا جائے تا اس دائرہ میں سب ہندو قو میں جمع رہیں اور ان میں