انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 76

انوار العلوم جلد ۸ ८५ قول الحق ہی اسلام کو جھوٹا کہنا پڑے گا کیونکہ اگر اسلام سچا ہے تو کہاں ہے وہ خدا جس نے اس کی مدد کا کوئی سامان کیا۔ اگر یہ مولوی رسول کریم اللہ کے وارث ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی امت کو نہیں سنبھال سکتے اور کیوں ان کی وجہ سے اسلام کی کوئی جماعت موجود نہیں؟ اسلام کے لئے انہوں نے کیا قربانیاں کیں ہیں ؟ ملکانوں کے ارتداد کے متعلق ہی انہوں نے کیا کیا وہاں بھی یہ لوگ ہمارے ہی مبلغوں کو کوستے رہے۔ ثناء اللہ نے ادھر منہ تک نہ کیا۔ گذشتہ سال یہاں مرتضی حسن نے کہا تھا کہ میں ملکانوں کے علاقہ سے احمدیوں کو جاکر نکالدوں گا مگر وہ سارا سال اس علاقہ میں گھسا ہی نہیں۔ ان لوگوں نے کرنا ہی کیا ہے ان سے ہو ہی کیا سکتا ہے جنہوں نے اسلام اور عقائد اور اخلاق کی بوٹی بوٹی کر دی ہے اور کوئی چیز ثابت نہیں رہنے دی۔ ان کے مقابلہ میں حضرت مرزا صاحب کو دیکھو کہ انہوں حضرت مرزا صاحب نے کیا کیا نے کیا کیا۔ ایک ایسے گاؤں میں جہاں رہا ماریل بھی نہیں آپ پیدا ہوئے ، آپ کے پاس کوئی مال نہیں تھا، جائیداد نہیں تھی ، بادشاہت نہیں تھی ، حکومت نہیں تھی ایسی حالت میں آپ کھڑے رے ہوئے اور اعلان کیا کہ خدا کے حکم کے ماتحت کھڑا ہوا ہوں میرے پاس دولت نہیں مگر خدا اور اس کے رسول کی محبت کی دولت ہے میرے پاس علم نہیں مگر قرآن ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی علم نہیں میرے پاس کوئی گدی نہیں مگر میرے آقا محمد ا کی گدی خالی پڑی ہے اس کی خدمت کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ بے شک میرے پاس کچھ نہیں مگر خدا چاہتا ہے کہ میرے ہی ذریعہ سب کچھ کرے ۔ دیکھو اور غور کرو کس برتے پر یہ آواز نکلتی ہے کوئی ظاہری چیز آپ کے پیچھے ہے جس کا آپ کو سہارا ہو ۔ ایک تن تنہا انسان ہے جو اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ خواہ کچھ ہو اسلام کو سب مذاہب پر بالا کر دوں گا اس کی یہ آواز سن کر مولوی کہلانے والے درندوں کی طرح اس پر آپڑتے ہیں کہ اسے پھاڑ ڈالیں۔ انہوں نے خود تو کچھ نہ کیا مگر جو اسلام کی خاطر کھڑا ہوا اس پر پل پڑے پھر مسلمان ہی نہیں ، عیسائی ، آریہ ، ہندو، سکھ بھی آپ کے پرپل وگئے ، حکومت بھی اور رعایا - رعایا بھی آپ کی مخالفت پر تل گئی، ر نگل گئی، یورپ اور امریکا خلاف ہو۔ امریکہ تک نے آپ کے خلاف زور لگایا غرض آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کی سب طاقتوں نے کہا ہم اسے مٹادیں گی۔ ان کے مقابلہ میں آپ نے فرمایا۔ بے شک میں کمزور ہوں میرے پاس کوئی طاقت نہیں کوئی جبقہ نہیں کوئی قوت نہیں ، مگر میرا خدا مجھے کہتا ہے ” دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر