انوارالعلوم (جلد 8) — Page xi
اللہ تعالی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلے پر اُٹھنے والی ہر چیز کو مٹاتا رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو ثابت فرماتا رہا۔ حضور نے فرمایا۔ "پس میں پوچھتا ہوں آخر صداقت کا کوئی ثبوت بھی ہوتا ہے کہ نہیں؟ اگر ہوتا ہے تو جو بھی ہے وہ سارے کا سارا حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کیلئے موجود ہے۔ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے ذریعہ اسلام زندہ ہوا قرآن کریم زندہ ہوا، محمد سلیم کا نام زندہ ہوا۔ خدا تعالیٰ کی توحید زندہ ہوئی پر نیکی زندہ ہوئی، ہر نبی زندہ ہوا، ہر راستباز نے دوبارہ حیات پائی۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی معمولی انسان نہ تھے آپ نے رسولوں اور ان کی تعلیمات کو زندہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ اس نے کیا کیا ہے ؟ وہ کون سی خوبی اور وہ کون سی صداقت ہے جو کسی نبی میں پائی جاتی ہے مگر حضرت مرزا صاحب علیہ السلام میں نہیں۔ تم لوگ اعتراض کی زبان دراز کرتے ہو ۔ کرو۔ مگر یہ تو بتاؤ کہ تمہارا کون سا اعتراض ہے جو ९९ پہلے نبیوں پر نہیں پڑتا۔ “ حضرت مصلح موعود نے ان مخالفوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ تمہارے پاس نہ آنحضرت میں اسلام کا علم ہے نہ روحانیت ہے۔ کوئی ایک بھی ہے تم میں سے جسے دعوئی ہو کہ خدا تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتا ہے۔ لیکن ہماری چھوٹی سی جماعت میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ایسے آدمی ہیں کہ جن سے خدا نے کلام کیا۔“ اپنے اس پر شوکت خطاب کے آخر میں احمدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ خدا نے ہم کو اس مقام پر کھڑا نہیں کیا کہ ہم ان لوگوں کی دل آزاریوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائیں۔ خدا کے ہو کر خدا کے بن کر اسلام کی خدمت کیلئے کھڑے ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔ اور پھر نہ ڈرو جو کچھ ہوتا ہے ہو جائے کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے پھر وہ کسی سے نہیں ڈرا کرتا۔"