انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 68

۶۸ ہے حالانکہ دیوبندی وہ ہیں جنہوں نے خدا کے جھوٹ بولنے پر رسالہ لکھا ہے اور ان پر جن باتوں کی وجہ سے کفر کا فتوی ٰلگایا گیا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خدا جھوٹ بول سکتاہے حضرت مسیح موعود نے اس قسم کی ناسزا باتوں سے خدا تعالی کو بالکل منزّہ قرار دیا ہے مگر باوجود اس کے ان مولویوں کی دیانت داری اور ایمانداری کا یہ حال ہے کہ آپ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور استدلال اس سے کرتے ہیں کہ آپ نے لکھا ہے کہ خداتعالی وعید کو ٹلا دیتا ہے حالانکہ ان کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ وعید کا ٹالنا جھوٹ بولنا نہیں کہلا سکتا۔کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ ایک شخص اگر کسی کو کہے کہ میں تمہیں ماروں گا مگر پھر اسے معاف کر دے تو کوئی اُلو اسے کہے گا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے کیونکہ مارنے کا کہہ کر پھر اس نے مارا نہیں اسے کوئی عقلمند جھوٹ نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی چوہڑے چمار سے بھی پوچھا جائے گا تو وہ بھی اسے جھوٹ نہیں کہے گا مگر یہ مولوی بڑی بڑی داڑھیوں والے منبر پر چڑھ کر ناچتے اور شور مچاتے ہیں کہ مرزا صاحب نے خدا کو جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے چنانچہ امرتسر کے ایک مولوی نے مرتضیٰ حسن دیوبندی کی تقریر میں تتمه حقيقة الوحی صفحہ ۱۳۴ کی عبارت پڑھ کر سنائی۔’’کبھی خداتعالی وعدہ کرتا ہے اور اس کو پورا نہیں کرتا " – ۲۸؎ حالانکہ اس کے متعلق اسی جگہ حضرت مسیح موعود نے صاف لکھا ہے کہ ’’یہ قول حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ کا ہے اور اس کے متعلق سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں قديوعد ولا يؤفی یعنی کبھی خداتعالی وعدہ کرتا ہے اور اس کو پورا نہیں کرتا۔اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ اس وعدہ کے ساتھ مخفی طور پر کئی شرائط ہوتے ہیں اور خدا تعالی پر واجب نہیں کہ تمام شرائط ظاہر کرے پس اس جگہ ایک کچا آدمی ٹھوکر کھا کر منکر ہو جاتا ہے اور کامل انسان اپنے جہل کا اقرار کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بدر کی لڑائی کے وقت باوجود یکہ فتح کا وعدہ تھابہت رو رو کر دعا کرتے رہے اور جناب الہٰی میں عاجزانہ یہ مناجات کی کہ اللھم إن أھلکت هذه العصابة فلنتعبد في الأرض أبدا۔کیونکہ آپ اس سے ڈرتے تھے کہ شاید اس و عمرہ کے اندر کوئی مخفی شرائط ہوں۔جو پوری نہ ہو سکیں ہر کہ عارف ترست ترساں تر‘‘ ۳۱؎