انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 601

۶۰۱ اور نعمت اسلام کے کامل اتباع سے ملتی ہے۔اور میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ؑاسلام کی اس سچائی کا خود ایک ثبوت تھے۔اور ان کی وفات کے ساتھ یہ ثبوت ختم نہیں ہو گیا بلکہ آج بھی زنده ہے۔اور آپ کے متبعین میں یہ نعمت اب تک موجود ہے اور ہمیشہ پائی جائے گی (اس مقام پر لیڈی لٹن کے ایک ہمراہی لڑکے نے سوال کیا) لڑکا:- روح اور خدا کے متعلق ہم ہندو لوگ بھی مانتے ہیں امتیازی بات کیا ہے؟ اگر ہندواِزم اور اسلام میں ان مسائل کے متعلق خفيف فرق ہو تو قابلِ لحاظ نہیں ہو تا۔حضرت:۔یہ بات درست نہیں ہے کہ خفيف فرق قابل لحاظ نہیں ہوتا۔اگر چہ میں تو یہ مانتاہی نہیں کہ خفيف فرق ہے بلکہ اسلام اور موجودہ ہندو اِزم میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن آپ کی بات مان کر میں کہتا ہوں کہ خفيف فرق جس کو آپ کہتے ہیں قابل ِلحاظ نہیں ہو تاعموماً بڑے بڑے نتائج پیدا کرتا ہے۔یہاں تک کہ زندگی اور موت کے نتائج پیدا ہوجاتے ہیں۔ایک ہی چیز ہے اس کی مقدار ایک حد تک تریاق ہے اور اس میں ذراسا اضافہ ہو جائے تووہی تریاق سمّی کیفیت اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔میں ایک ڈاکٹر کے پاس طبی مشورہ کے لئے گیا اس نے مجھے نکس و امیکا ۷ بوند اور سوڈابائی کارب ۶گرین بتائے اور کہا کہ نہ اس سے کم ہو نہ زیادہ۔اب بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ اگر ۷ کی بجائے ۸یا۶کی بجائے پانچ کردی جاویں تو کوئی بڑا فرق نہیں۔مگر اس نے کہا کہ اگر اس سے کچھ بھی کم یا زیادہ ہو تو فائدہ نہیں ہو گا۔اور یہ بات بالکل درست تھی۔امتیازات اور فرق مقدار کے لحاظ سے بعض وقت نظر نہیں آتے مگر کیفیت اور اثر کے لحاظ سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔اسلام اور ہندو ازم میں جو سب سے بڑا امتیازی نقطہ ہے وہ یہی ہے کہ اسلام اس خدا کی طرف بلاتا ہے جو ہمیشہ بولتا ہے اور کلام کرتا ہے۔جس طرح پر وہ ہمیشہ سے دیکھتا اور سنتا ہے اور آج بھی اس میں ایسے لوگ ہیں جو خدا سے کلام کرتے ہیں مگر ہندواِزم کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا۔ایک دوسرا لڑکا۔ہندواِزم کی بابت آپ کا کیا خیال ہے؟ حضرت:- ہندواِزم اپنی ابتدائی منزل میں اس زمانہ کی ضرورت کے موافق ایک خدائی تعلیم تھی مگرامتدادِ زمانہ سے اس کی شکل بدلتی گئی اور وہ حقیقت اس سے دور ہوگئی۔وہی لڑکا: پھر اب اس کے ماننے کی کیوں ضرورت نہیں؟ حضرت:۔اول تو وہ حقیقت جاتی رہی، انسانی تصرّفات نے اس کو بگاڑ کر کچھ اور ہی بنا دیا۔