انوارالعلوم (جلد 8) — Page 566
۵۶۶ طبقہ کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے اعلی ٰسوسائٹی سے تعلق ہو تو انسان کے اثر کادائرہ بڑھ جاتا ہے اور با رسوخ ہو کر کام زیادہ وسعت سے کر سکتا ہے اور ان تعلقات کا بڑھانا بھی کام سمجھا جائے گا۔یہاں جو لوگ پولیٹکل یا سوشل حالت کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کے سمجھے جاتے ہیں اگر وہ ہمارے مبلغین کو بلائیں یا ان کے ہاں آئیں تو لوگ محسوس کریں گے کہ سوسائٹی پر ان کا رعب اور ادب ہے۔خواہ وہ علم کے لحاظ سے ہو یا روحانیت کے لحاظ سے اور پھر یہ لوگ خواہ مسلمان نہ ہوں لیکن ان کے ذریعہ سے مدد ملتی ہے۔ہندوستان میں دیکھا ہے کہ جن بڑے شہروں میں بااثر ہندوؤں یا غیر احمدی مسلمانوں کے ہمارے لوگوں سے سوشل تعلقات ہیں وہاں ہماری جماعت کو لیکچروں کے متعلق آسانی ہوتی ہے اور لیکچر ہو جاتے ہیں۔میری مراد اعلی ٰطبقہ سے چوٹی کا طبقہ ہے اس سے تعلقات پیدا کرو۔ایک سوسائٹی کے آدمی ہوتے ہیں انہوں نے کوئی ملکی یا علمی کام نہیں کیا ہو تا مگروہ ہر سوسائٹی میں دخل رکھتے ہیں۔بعض اوقات پولیٹیکل آدمیوں سے بھی زیادہ ان کا رسوخ ہوتا ہے لوگوں کو ان کے اثر سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ فائدہ پہنچاتے ہیں اس لئے ان کے اثر کا حلقہ وسیع ہو جاتا ہے۔پس ایسے لوگوں سے تعلقات بڑھانا اپنے کام کو وسیع کرنا ہے۔دوسرے درجہ پر پولیٹکس والے ہیں۔سوسائٹی میں گوان کا درجہ اول نہیں مگر ان کا اثربہت زیادہ ہو تاہے۔تیسرے اخباری یا علمی مذاق کے لوگ ہیں جو مصنف ہوتے ہیں ان میں بھی چوٹی کے آدمی چُن لئے جاویں۔خبریں پہنچانے والی ایجنسیوں کے سوا سائیکلوجی اور دوسرے علم کے ماہرین سے تعلقات بڑھائے جائیں۔چونکہ یہ علمی مذاق کے لوگ ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں ان کے ذریعہ انسان ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے کام کو تقویت ہوتی ہے۔سب سے قابل آدمی وہ ہے جو خوش مذاق ہو، رونی شکل والا سوسائٹی میں مقبول نہیں ہو سکتا۔علمی سوسائٹیوں میں ہیو مر( زنده دلی) کے بغیر انسان ترقی نہیں کر سکتا ہے۔ایسی مجلسوں میں اختلاف ہوتا ہے اپنی بات کہتاہی جاوے اور دوسروں کی بھی بغیر کبید گی اور کشیدگی کے سن لے۔اس طرز پر بات ہو کہ چڑے نہیں اور ناراض نہ ہو اختلاف ہو تب بھی سنے۔مبلغ جب مختلف سوسائٹیوں میں تعلقات کو بڑھاتا ہے تو اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ملا قاتوں