انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 553

۵۵۳ ( ۵)آپ کہتے تھے کہ سچے مذہب کی علامت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی زندگی کے سامان کرتا ہے اور فرماتے تھے کہ اسلام کو انسانی خیالات کی تعدّی سے محفوظ رکھنے کیلئے اﷲتعالیٰ ہمیشہ اپنے نبی بھیجتا رہے گا جو اس کی حفاظت کریں گے- چنانچہ ابھی ایک نبی احمدؑ ہندوستان میں اسی غرض سے ظاہر ہوا ہے اور میں اس کا خلیفہ ہوں اور میرے ساتھی اس کی جماعت میں سے ہیں۔( ۶) آپ فرماتے تھے کہ باوجود مذہبی اختلافات کے لوگوں کو آپس میں محبت سے رہنا چاہیے اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے جھگڑنا نہیں چاہیے کیونکہ اگر کسی کے پاس سچائی ہے تو اسے لڑنے کی کیا ضرورت ہے وہ سچائی کو پیش کرے، خودہی لوگ متاثر ہوں گے- چنانچہ آپ اپنی مسجد میں عیسائیوں کو بھی عبادت کرنے کی اجازت دیتے تھے اور یہ ایسی وسیع حوصلگی ہے کہ اُس وقت کے لوگ تو الگ رہے آج کل کے لوگ بھی اس کی مثال نہیں پیش کرسکتے۔( ۷) آپ اس امر پر بہت زور دیتے تھے کہ انسانی زندگی کے دوپہلو ہیں- ایک روحانی اور ایک جسمانی۔اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ایسے وابستہ ہیں کہ الگ نہیں ہوسکتے- جسمانی حصہ روحانی پر اثر ڈالتا ہے اور روحانی جسمانی پر- پس آپ کی تعلیم میں اس امر پر خاص زور تھا کہ بغیر دلی پاکیزگی کے ظاہری عبادتیں فائدہ نہیں دے سکتیں اور یہ بھی کہ ظاہری عبادتوں کے بغیر خیالات کی بھی تربیت نہیں ہوسکتی۔اس لئے کامل تربیت کے لئے انسان کو دونوں باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔۸)آپ انسان کی اخلاقی حالتوں کے متعلق یہ تعلیم دیتے تھے کہ سب انسان پاک فطرت لے کر پیدا ہوتے ہیں اور جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ پیدائش کے بعد غلط تعلیم یا تربیت سے پیدا ہوتی ہے- پس آپ بچوں کی نیک تربیت اور اعلیٰ تعلیم پر خاص طور پر زور دیتے تھے۔۹) آپ اس امر پر بھی زور دیتے تھے کہ اخلاق کی اصل غرض انسان کی اپنی اور دوسرے لوگوں کی اصلاح ہے- پس اخلاق فاضلہ وہی ہیں جن سے انسان کا نفس اور دوسرے لوگ پاکیزگی حاصل کریں- پس آپ کبھی ایک تعلیم پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ ہمیشہ ہر چیز کے سب پہلوؤں کو بیان کرتے تھے۔مثلاً یہ نہیں کہتے تھے کہ نرمی کرو، عفو کرو، بلکہ یہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص تم کو تکلیف دے تو یہ سوچو کہ اس شخص کی اصلاح کس بات میں ہے- اگر وہ شخص شریف الطبع ہے اور معاف کرنے سے آئندہ ظلم کی عادت کو چھوڑ دے گا اور اس نمونہ سے