انوارالعلوم (جلد 8) — Page 549
۵۴۹ تبلیغ توحید سے روکنے کی ایک اور کو شش جب اہل مکہ کو اس سے بھی نا اُمیدی ہوئی تو انہوں نے ایک رئیس کو اپنے میں سے چُنا اور اس کی معرفت آپ کو کہلا بھیجا کہ آپ یہ بتائیں کہ ملک میں یہ فساد آپ نے کیوں مچا دیا ہے- اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ آپ کوعزت مل جائے تو ہم سب شہر میں سے آپ کو معزز قرار دے دیتے ہیں- اگر مال کی خواہش ہے تو ہم سب شہر کے لوگ اپنے مالوں کا ایک ایک حصہ الگ کرکے آپ کو دے دیتے ہیں جس سے آپ سارے شہر سے زیادہ امیر ہوجائیں گے- اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں- اگر شادی کی خواہش ہے تو جس عورت سے آپ چاہیں آپ کی شادی کرادی جائے گی۔مگر آپ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم نہ دیں-۵۳؎ جس وقت وفد نے یہ پیغام آپ کو آکر دیا آپ نے فرمایا کہ دیکھو اگر سورج کو میرے ایک طرف اور چاند کو میرے دوسری طرف لا کر کھڑا کر دویعنی یہ دنیا کا مال تو کیا ہے اگر چاند اور سورج کو بھی میرے قبضہ میں دے دو تب بھی میں اس تعلیم کو نہ چھوڑوں گا۔مخالفین کا تبلیغ میں روکیں ڈالنا اور مقاطعہ کرنا اُس وقت تک کُل اسّی ۸۰ آدمی رسول کریمﷺ پر ایمان لائے تھے مگر جب مکہ کے ظلموں کی خبر باہر پہنچی تو لوگوں نے تحقیقات کے لئے مکہ آنا شروع کیا- اس پر اہل مکہ بہت گھبرائے اور انہوں نے شہر کی سڑکوں پر پہرے مقرر کردیئے کہ کوئی رسول کریمؐ سے مل نہ سکے اور ارادہ کیا کہ آپ کو قتل کردیں- اس پر آپ کے چچا اور دیگر رشتہ دار آپ سمیت ایک وادی میں چلے گئے تاکہ آپ کی حفاظت کریں- پس جب اس طرح بھی کام چلتا نہ دیکھا تو سب اہل مکہ نے معاہدہ کرلیا کہ رسول کریمؐ اور آپ کے خاندان اور تمام مسلمانوں کا مقاطعہ کیا جائے اور کوئی شخص ان کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز فروخت نہ کرے اور نہ ان سے شادی بیاہ کا تعلق کیا جائے اور نہ ان سے کبھی صلح کی جاوے جب تک وہ آپ کو قتل کے لئے نہ دے دیں- مکہ ایک اکیلا شہر ہے اس کے ارد گرد چالیس میل تک کوئی شہر نہیں- پس یہ فیصلہ سخت تکلیف دہ تھا- مکہ والوں نے پہرے لگا دیئے کہ کوئی شخص ان کے ہاتھ کوئی کھانے کی چیز فروخت نہ کرے اور برابر تین سال تک اس سخت قید میں آپ کو رہنا پڑا- راتوں کے اندھیروں میں