انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 527

۵۲۷ گذشتہ جنگ کا اثر مگر سب سے زیادہ ہندوستانیوں کے خیالات کو بدلنے والی پچھلی جنگ ثابت ہوئی ہے- انگریزوں سے سب سے زیادہ ملنے کا موقع تعلیم یافتہ لوگوں کے بعدہندوستانی سپاہی کو ملتا تھا۔مگر وہ ان روایات کے ماتحت جو نسلاً بعد نسلٍ چلی آتی ہیں انگریز سپاہی کی برتری کو تسلیم کئے چلا آتا تھا اور انگریز سپاہی اس سے الگ بھی رکھا جاتا تھا اور جو نئے سپاہی آتے تھے وہ اپنے سے پہلے سپاہیوں سے مل کر عام طور پر ہندوستانی سپاہی سے الگ رہنے کے عادی ہوجاتے تھے مگر اس جنگ نے نقشہ ہی بدل دیا- ہندوستان سے ایک وقت میں پانچ لاکھ آدمی کے قریب غیر ممالک میں رہا- اسے پہلے فرانسیسوں میں رہنے کا موقع ملا جنہوں نے موقع کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر ان کی خوب خاطر کی- پھر اس کی جگہ کو بدل تو دیا گیا مگر پھر بھی کثرت سے انگریز سپاہیوں کے ساتھ اسے رہنے کا موقع ملا جو انگلستان سے تازہ وہاں گئے تھے اور ہروقت کے ساتھ رہنے اور جنگ کے خطرناک دنوں کے اثر کی وجہ سے اپنے ریزرو کو قائم نہیں رکھ سکتے تھے- پس ہندوستانی سپاہی جو پہلے صرف اطاعت اور ادب سے واقف تھا اسے معلوم ہوا کہ میرے بھی کچھ حقوق ہیں اور ہندوستانی طریق حکومت کے علاوہ دنیا میں اور بھی طریق حکومت ہیں- یہ لاکھوں آدمی جو ملک کے گوشہ گوشہ کے قائمقام تھے جب جنگ سے واپس گئے تو انہوں نے ان علاقوں میں بھی جہاں کہ تعلیم کی وجہ سے لوگ اس امر کے سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے کہ دنیا میں ایک سے زیادہ طریق حکومت بھی ہیں ان خیالات کو پھیلا دیا اور ہندوستان کی کثیر آبادی مغربی ممالک کے طریق حکومت کی باریکیوں سے واقف نہ تھی اور نہ ہے مگر اس امر کو خوب سمجھ گئی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے ملک کے لوگوں کے ذریعہ سے ملک پر حکومت کی جائے اور یہ کہ ساری دنیا کے پردے پر اسی حکومت کوبہتر سمجھا جاتا ہے۔جنگ کا ایک اور بھی اثر ہوا- اس جنگ سے پہلے عام ہندوستانی یہ خیال کرتا تھا کہ انگریزوں کے برابر اور کوئی قوم نہیں- اس کے نزدیک سب دنیا مل کر بھی انگریزوں کو پریشان نہیں کرسکتی تھی اور وہ اس خیال پر ایسا مضبوط تھا کہ اس کے نزدیک انگریزوں سے حکومت ہند کا مطالبہ کرنا ایسا ہی تھا جیسے چاند لینے خواہش کرنا لیکن جنگ میں جب اس کے گھر پر افسروں نے متواتر آنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اس وقت سرکار پر سخت مصیبت ہے ان کو سرکار کی مدد کرکے اپنی وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے- جرمن نے بِلاوجہ سرکار انگریزی سے لڑنا شروع کردیا ہے۔تو تمام ملک کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ دنیا میں