انوارالعلوم (جلد 8) — Page 526
۵۲۶ اور یہ ان کی خواہش طبعی ہے- ان پر اس دلیل کا کچھ اثر نہیں ہوتا کہ تمہارا ملک تعلیم میں کم ہے کیونکہ وہ فوراً جواب دیتے ہیں کہ جس وقت مغربی ممالک کو آزادی حاصل ہوئی ہے اسی وقت کی نسبت ہماری تعلیم مغربی لوگوں سے کم نہیں ہے- دوسرا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ تعلیم ہمارے ہاتھ میں نہ تھی اگر تعلیم کم ہے تو اس کی جواب دہ گورنمنٹ ہے نہ کہ ہم- اسی طرح تو ایک قوم کو تعلیم میں پیچھے رکھ کر ہمیشہ کی غلامی میں رکھا جاسکتا ہے۔اہل مغرب سے میل جول مگر تعلیم سے بھی زیادہ اثر کرنے والی چیز ان کا وہ بڑھنے والا تعلق ہے جو مغرب سے ان کو پیدا ہورہا ہے- جوں جوں ہندوستانی باہر نکلتے ہیں وہ مغربی طرز حکومت کو عملی صورت میں دیکھ کر اس قسم کی حکومت اپنے ملک میں بھی جاری کرنی چاہتے ہیں- آج ہزاروں لاکھوں آدمی ہندوستان کا مغربی ممالک میں پھیلا ہوا ہے حالانکہ ایک وقت وہ تھا کہ ایک ہندو اگر ملک سے باہر آتا تھا تو اس کی قوم اس کو فوراً قوم سے خارج کردیتی تھی کیونکہ ان کے نزدیک ہندوستان سے باہر جانے میں ہندو اپنے مذہب سے الگ ہوجاتا تھا- آج کوئی مغربی ملک نہیں جہاں ہندوستانی کے باشندے عارضی یا مستقل رہائش نہیں رکھتے- باہر آنے والے لوگ جو خیالات کہ ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ان کو واپس جا کر یا خطوں کے ذریعہ سے باقی ملک میں پھیلاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ روزمرہ ان لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو نیابتی حکومت کے خواہش مند ہیں۔یہ لوگ جو ہندوستان سے باہر جاتے ہیں ان کے خیالات سے تین طرح متاثر ہوتے ہیں- اول باہر کی حکومتوں کو دیکھ کردوسرے اس وجہ سے کہ بعض جگہ پر ہندوستانیوں سے اچھا معاملہ نہیں کیا جاتا اور ان کے دلوں میں اس سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری اپنی حکومت ہوتی تو ہمیں اس طرح ذلیل نہ کیا جاتا اور اگر کوئی ہمیں ذلیل کرنے والی بات کربھی بیٹھتا تو فوراً ہماری حکومت ہماری مدد کرتی- تیسرے بعض مغربی حکومتو ں کے لوگ انگریزی حکومت سے عداوت کی وجہ سے ہندوستانیوں کے قومی جوش کو اُبھارنے کے لئے ہمیشہ ان ہندوستانیوں کو جو ان کے ملک میں جاتے ہیں یہ طعنہ دیتے ہیں کہ تم لوگ کب معزز ہوسکتے ہو جن پر ایک چھوٹے سے جزیرہ کے لوگ حکومت کر رہے ہیں- دنیا میں دلیلیں اس قدر گہرا اثر نہیں کرتیں جس قدر کہ طعنے اثر کرتے ہیں اور یہ طعنے بہت سے ہندوستانیوں کے دلوں میں گہرے زخم پیدا کرچکے ہیں۔