انوارالعلوم (جلد 8) — Page 515
۵۱۵ تعدّد ازدواج طالب علم:- ایک سوال کرتا ہوں قرآن شریف نے کہاں تک اجازت دی ہے۔کہ ایک سے زیادہ شادیاں کریں۔حضرت :۔قرآن شریف نے چار تک حکم دیا ہے اگر عدل نہ کر سکے تو پھر ایک ہی کرے۔ہرایک بیوی کو برابر باری دے اور برابر مال دے۔میں نے اپنی جماعت کے لئے حکم دے دیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ شادی کر کے عدل نہیں کرے گا تو میں اس کو سزا دوں گا جو قومی بائیکاٹ ہوگا۔سوال:- محبت برابر نہیں ہوسکتی۔حضرت:۔کیا ایک شخص اپنے متعدد بچوں نے محبت کرتا ہے یا نہیں۔یہ خیال صحیح نہیں۔اپنے عمل سے انسان مساوات رکھ سکتا ہے۔اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ یہ عیش نہیں بلکہ ایک بہت بڑی قربانی ہے جبکہ وہ دوسری بیوی سے بھی ویسی ہی محبت کرے گا۔سوال :۔کیا یہ جائز ہے کہ عورت کا ولی یا اگر عورت بالغ ہو تو خود شادی کے وقت یہ شرط کرے کہ اس کا شوہر دوسری شادی نہ کرے گا۔حضرت:- ہمارے نزدیک یہ جائز ہے۔سوال:۔لونڈیوں کی تو کوئی حد نہیں۔حضرت:۔ہم اس کو جائز نہیں سمجھتے۔عبدالحکیم :- اب تک مکہ میں اس کا رواج ہے کہ لونڈیاں فروخت ہوتی ہیں۔حضرت:۔اگر ہمارا اختیار ہو تو سب سے پہلے اس کو منسوخ کریں۔اگر وہ لونڈی کہہ دے کہ وہ جنگی قیدی نہیں ہے تواسے حق ہے کہ اپنے حق کی بناء پر آزاد ہو جائے۔حضرت عمر ؓکے عہد میں ایک قوم کو آزاد کردیا گیا تھا۔عبدا لحکیم:۔غلام کی کمائی کس کی ہوگی ؟ حضرت:- جس دن وہ آزاد ہو جاوے اس کی کمائی الگ ہو جائے گی۔قرآن مجید سے تو ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ آزاد ہونا چاہے فورا ًاسے آزاد کرنا چاہیے۔اور اگر اس کے پاس روپیہ نہ ہو تو گورنمنٹ روپیہ دیکر آزاد کرائے۔عبد الحکیم:۔تعدّد ازواج کے متعلق میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ ایک عورت نے جب شادی کی تو اس کے شوہر کی ایک سَوروپیہ آمدنی تھی۔اب اگر وہ چار کرے تو اس کے حصے میں پچیس