انوارالعلوم (جلد 8) — Page 17
۱۷ (ز) بعض احکام قرآن شریف کے ایسے ہیں جو بہا ء اللہ کی وحی کے ماتحت تبدیل ہو گئے ہیں۔میں بعض حالات کے لحاظ سے میں بہاء اللہ کو آنحضرت ﷺ سے افضل سمجھتا ہوں۔(ش)میں پانچ اسلامی نمازوں کا پڑھنا فرض نہیں سمجھتا۔(ص) میں روزانہ تین بہا ئی نماز یں پڑھتا ہوں۔(ض) بہائی فرض نماز جو نہ پڑھے وہ گنہگا رہے۔(ق) اسلامی روزے رمضان کے اب فرض نہیں رہے (ک) تحویل قبلہ اب مکہ کی طرف ہو چکی ہے۔(گ) میں لا تثئ إلا عينى که کا مصداق بہاء اللہ کو مانتا ہوں۔میرے نزدیک مہدی اور مسیح دو شخص ہیں۔(ف) نزول ابن مریم کی حدیث بہاء اللہ کے متعلق ہے۔ضمناً مرزا صاحب کے متعلق۔(ل)، لوكان الإيمان لا کی حدیث صاف طور پر بہاء اللہ کے متعلق ہے۔(م) میں کبھی نماز مکہ کی طرف منہ کر کے بھی پڑھتا ہوں۔جب مساجد میں پڑھتا ہوں تو مکہ کی طرف منہ کر کے پڑھتا ہوں۔بیانات مندرجہ بالا سے یہ بات اظهر من الشمس ہے کہ مولوی صاحب موصوف نہ صرف مخصوص عقائد احمدیہ سے بلکہ عام مسئلہ عقائد اسلامیہ سے منحرف ہیں جس کا وہ کھلم کھلا اقرار کرتے ہیں۔گو وہ ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ میں مرزا صاحب اور آنحضرت ﷺ کو راست باز سمجھتا ہوں۔خفیہ کارروائی اور اس کی بیہودہ وجہ: امردوم کے متعلق جیسا اوپر بھی لکھا جا چکا ہے مولوی محفوظ الحق صاحب خود تو کھلم کھلاا قراری نہیں ہیں مگر اخفاء کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جو غرض وہ اس اخفاء کی بیان کرتے ہیں وہ نہ صرف نا قابل تعلیم بلکہ مضحکہ انگیز ہے۔یعنی یہ کہ احمدیوں کو تکلیف نہ ہو۔بات یہ ہے جیسا کہ شہادت سے پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا ہے انہوں نے مجرمانہ اخفاء کیا ہے اور اس بات کی کوشش میں رہے ہیں کہ خفیہ خفیہ اپنے بہائی عقائد کی زہر پھیلائیں تاکہ کھلم کھلا اظہار سے قبل ایک جماعت قائم ہو جائے۔اور زیادہ قابل افسوس یہ جرم کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی مخفی تبلیغ کے لئے ان لوگوں کو چنا کہ جن کے متعلق کسی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ ان پر میں اپنا اثر ڈال سکوں گا۔