انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 466

۴۶۶ دوره یو رپ کہ میں آدمیوں کا بھوکا نہیں میں اپنے رب کی نگاہ کا بھوکاہوں۔اے نادان مولوی! تُو اپنی طرح مجھے مت خیال کر۔احمدی جماعت کیا ہے ایک مٹھی بھر جماعت ہے۔اگر ساری دنیا میرے ساتھ ہو اور مجھے چھوڑ دے تومیں اپنے خدا پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔اور جب خداتعالی میرے ساتھ ہے تو مجھے انسانوں کے آنے یا جانے کی کیا پرواہ ہے۔جو انسان میری بیعت کرتا ہے وہ اپنے فائدے کے لئے ایسا کرتا ہے ،مجھ پر اس کا احسان نہیں بلکہ میرے ذریعہ سے خداتعالی اس پر احسان کرتا ہے۔جو شخص مجھے کوئی تحفہ دیتا ہے وہ مجھ پر احسان نہیں کرتا بلکہ خداتعالی اس ذریعہ سے اس پر احسان کرتا ہے۔تم میں سے کون ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کبھی اس سے کچھ ما نگاہو۔سوائے اس کے کہ بطور قرض کے کسی سے کوئی رقم لی ہو۔کوئی ہے جو مجھ پر دنایت کا الزام لگا سکے؟ کوئی ہے جو مجھ پر خيانت ثابت کرسکے؟ کوئی ہے جو میری طرف لالچ یاحرص کو منسوب کر سکے ؟ اگر کوئی شخص دنیا کے پردہ پر اس قسم کا موجود ہے تو میں اس کو قسم دیتا ہوں اس ہستی کی جس کے ہاتھ میں اس کی جان ہے کہ وہ خاموش نہ بیٹھے اور مجھے دنیا کی نظروں میں ذلیل کرے۔اگر میں احمدیت سے عذر کرنے والا ہوں، اگر میں لوگوں کے مال کھانے والا ہوں، اگر میں لالچ اور حرص کی مرض میں چاہوں تو میری مدد کرنے والا ،میرے راز پر پردہ ڈالنے والا خدا اور اس کے دین کا دشمن ہے۔اور جس قدر جلد وہ اپنی اصلاح کرے، اسی قدر اس کی روحانیت کے لئے یہ امرا چھاہوگا۔جماعت کے روپیہ کا امین زندگی کا کوئی اعتبار نہیں، موت ہراک کو آنیوالی ہے۔پس میں اس امر کا اعلان کرتاہوں کہ خواہ مجھ میں کوئی قصور ہوں، کوئی غلطیاں ہوں، میں جماعت کے روپیہ اور اس کے سامان کا اس رنگ میں امین رہا ہوں کہ اس سے زیادہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔بعض دوست مجھے بطور ہدیہ کے روپیہ بھیجتے ہیں اور میرے نام منی آرڈر ارسال کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جب ان کے نام روپیہ بھیجا ہے تو کچھ لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔میں اس روپیہ کو بھی کبھی نہیں لیتا۔میرے نام سے سب منی آرڈر دفتر محاسب میں جمع ہوتے ہیں اور وہاں رجسٹروں میں درج ہو کر میرے پاس آتے ہیں۔پس میرے حالات پر کوئی پردہ نہیں۔وہ رجسٹر اور وہ کوپن اس امر پر شاہد ہیں کہ ایسار وپیہ بھی خزانہ جماعت میں داخل ہوتا ہے۔میں اس کو ہاتھ نہیں لگا تا۔میں بے شک ضرورت کے وقت خزانہ سلسلہ سے روپیہ قرض لے لیتا ہوں اور پھر حسب توفیق ادا کر دیتا ہوں۔