انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 14

۱۴ ہے کہ بعض اعتراضات حضرت صاحب کے دعوی پر ایسے پڑتے ہیں کہ ہم ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور یہ سوالات ایسے لوگوں کے سامنے کئے گئے ہیں جو اپنی علمیت کے لحاظ سے ایسے نہ تھے کہ جن سے آپ استفاضہ کر سکیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کی غرض علمی تحقیقات نہ تھی بلکہ آپ شبہات پیدا کرنا چاہتے تھے۔(3) آپ کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ایک کتاب ایسی تیار کر رہے ہیں جس میں آپ کا منشاء یہ ثابت کرنے کا ہے کہ بہاء اللہ کاد عو یٰ سچا تھا اور حضرت صاحب اس کے لئے بطور مؤید کے ہیں۔(۴) آپ کی نسبت یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ نے الفضل کی ایڈ یٹری کے زمانہ میں الفضل میں اور بعض دوسری تحریروں میں ایسے مضامین لکھ دیئے ہیں جن سے آپ حسب موقع ایک بہائی مذہب کی تائید میں کام لیں گے۔(۵) یہ کہ آپ بہائیوں کی کتا بیں لوگوں کو براہ راست یا اللہ دتہ کی معرفت جو اس امر میں آپ کا ساتھی بیان کیا جاتا ہے پڑھنے کے لئے دیتے ہیں اور ساتھ ہی ایسی باتیں کہی گئی ہیں جن سے یہ ظاہر کرنامدّ نظر تھا کہ وہ کتابیں لاجواب ہیں۔(۶) بیان کیا جاتا ہے کہ آپ اس عقیدہ کا اظہار کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد نیا شرعی نبی اور قرآن کریم کے بعد نئی شریعت آسکتی ہے۔(۷) کہا جاتا ہے کہ ایک نہایت ہی خطرناک رویہ آپ نے یہ اختیار کیا ہے کہ آپ اپنی تمام کارروائیوں کو ایسی صورت میں مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ لوگ جو اس زہر کا ازالہ کر سکتے ہیں آپ کی کارروائیوں سے بے خبر رہیں۔(۸) یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ بعض لوگوں کو بہائی مذہب کی نماز لکھ کر یا لکھوا کر دیتے ہیں۔اسی طرح روزے بہائی مذہب کے مطابق رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں اور یہ بھی کہا جا تا ہے کہ آپ نمازوں کے اوقات میں لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ نماز مسجد میں جا کر نہ پڑھیں بلکہ نماز دل کی ہے جہاں دل چاہے پڑھیں۔ٍ (9) یہ کہ آپ کے تعلقات معروف بہائیوں کے ساتھ ہیں اور ان سے خط و کتابت ہے اور ان سے کتا ہیں منگواتے ہیں، اور اس تجویز کی فکر میں بھی آپ ہیں کہ خاص آدمی بھیج کرکتا بیں منگوائیں۔