انوارالعلوم (جلد 8) — Page 420
۴۲۰ دوره یو رپ پاک جماعت ہو تمہارے دل اس کے عرش ہیں - آہ!اندھی دنیا کو کیا معلوم ہے کہ جب ایک احمدی ان کے محلّہ میں پھرتا ہے تو وہ خداتعالی کا سورج ہے جو اس کے ظلمت کدہ کو منور کر رہا ہے مگر اندھے کو روشنی کون دکھائے۔خوبصورت چہرہ بد صورت کے مقابلہ پر ہی زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے اور میں دنیا کو دیکھ کر اس جماعت کی خوبصورتی کو دیکھتا ہوں۔کاش !لوگ میری آنکھیں لیتے اور پھر دیکھتے۔کاش لوگوں کو میرے کان ملتے اور پھر وہ سنتے۔تب وہ تم میں وہ کچھ دیکھتے جس کے دیکھنے اور سننے کی انہیں امید نہ تھی۔مگر ہر امر کے لئے ایک وقت ہوتا ہے۔وہ دن آتے ہیں کہ جب مسیح موعود کی قوت قدسیہ کو لوگ دیکھیں گے۔کاش! ہم بھی اس دن کو جو خدا کے پہلوان کی فتح کا دن ہو گا دیکھیں۔اے عزیزو! اب میں اپنے خط کو ختم کرتا ہوں مگر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صاف کپڑے کی نگہداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔میلے پر اور میل بھی لگ جائے تو اس کا پتہ نہیں لگتا۔پس اپنے آپ کو صاف رکھو تاقدوس خدا تمہارے ذریعہ سے اپنے قدس کو ظاہر کرے۔اور اپنے چہرہ کو بے نقاب کرے اتحاد ،محبت ،ایثار، قربانی ،اطاعت ہمدردی بنی نوع انسان ، عفو، شکر ،احسان اور تقویٰ کے ذریعہ سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خداتعالی کا ہتھیار بننے کے قابل بناؤ۔ی اد ر کھو!تمہاری سلامتی سے ہی آج دین کی سلامتی ہے اور تمہاری ہلاکت سے ہی دین کی ہلاکت۔دنیا تم کو تباہ کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر مجھے اس کافکر نہیں۔اگر تم خدا کو ناراض کر کے خود اپنے آپ کو ہلاک نہ کرلو تو دنیا تم کو ہلاک نہیں کر سکتی۔کیونکہ خدا نے تم کو بڑھنے کے لئے پیدا کیا ہے نہ ہلاک ہونے کے لئے۔لکھنے کو تو بہت کچھ جی چاہتا تھا مگراب دوبجنے کو ہیں۔پس میں اس خط کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ بھی ہو اور ہمارے ساتھ بھی۔آمین۔خاکسار مرزا محموداحمد ۲۲جولائی ۱۹۲۴ء (الفصل 9-اگست۱۹۲۴ء)