انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 412

۴۱۲ دوره یورپ ہو۔آپ کے مخاطب وہ لوگ تھے جو اپنے آپ کو پہلے ہی کسی مذہب کی طرف منسوب کرتے تھے اور وہ اپنے اپنے مذہب کے کامل ہونے پر فخر کرتے تھے۔دوئم جیسا کہ پیری مریدی کا سلسلہ عموماً لوگوں کے اوپر اختیارات کھو چکا تھا تو مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب پر پورے طور سے مطمئن تھے۔سوئم آپ کی تعلیم رائج الوقت خیالات کے خلاف تھی۔چہارم- آپ اپنے دعوے سے پہلے قوم میں کوئی ممتاز حیثیت نہ رکھتے تھے نہ ہی آپ ایسے خاندان سے تھے جس کو لوگ اس کی گذشتہ دینداری کی وجہ سے عزت کی نظر سے دیکھتے ہوں یا جسکے متعلق کسی دینداری یا روحانیت کی امیدیں لوگوں کے دلوں میں موجزن ہوں۔پنجم آپ ایک ایسے صوبے کے چھوٹے اور ایک گمنام گاؤں میں پڑے تھے جس میں کوئی تمدنی، عقلی، تاریخی یامذہبی کشش کی بات نہ تھی۔ششم آپ ہر قسم کی پولیٹیکل تحریک سے الگ رہتے تھے اور وہ لوگ جو آپ کے پیرو بنے انہیں کسی دنیوی فائدہ کی امید نہیں ہو سکتی تھی بلکہ بر خلاف اس کے انکو کئی قسم کی قربانیاں کرنی پڑتی تھیں اور ان کو کئی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ہفتم۔آپ اپنے پیروؤں کی زندگیوں میں ایک مکمل تبدیلی کرنا چاہتے تھے اور صرف زبانی اقراروں سے مطمئن نہیں ہوتے تھے گویا صرف نام کا مرید بن جانا قبول نہیں ہوتا تھا۔ہشتم۔آپ نے کبھی کسی ایسی چال کو اختیار نہیں کیا جس کے استعمال سے لوگوں میں قبولیت حاصل کی جائے اس لئے با و جود ان باتوں کے وہ ترقی جو آپ کے سلسلے کی آپ کی قبل ازوقت شائع شدہ پیشگوئیوں کے موافق آپ کی صداقت کا آخری ثبوت ہے۔ان تمام مشکلات کے ہوتے ہوئے ایسی پیشگوئیوں کی اشاعت کرنا جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ظاہر کرتا ہے کہ بلحاظ ان حالات کے جن میں یہ پیشگوئیاں شائع کی گئیں وہ خارقِ عادت تھیں اور اگر ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ وہ پوری ہو گئیں تو یہ ہمارے لئے آپ کی صداقت کا نہایت زبردست ثبوت ہے۔ان پیشگوئیوں میں سے اکثر پوری ہو چکی ہیں اور جو باقی ہیں وہ اپنے وقت پر پوری ہونے والی ہیں۔قادیان جو اُس وقت ایک گمنام گاؤں تھا اب تمام دنیا میں مشہور ہے۔وہ جو صدی کا ثُلث، پہلے تنہا تھا اب تمام ملکوں میں اور تمام اقوام میں اپنے پیرو ہونے کا دعوی ٰکر سکتا ہے جو ہر فرقہ اور نسل سے کھنچے چلے آئے ہیں۔آپ کا نام بلند کیاگیا اور آپ کے دشمن بھی اس کو