انوارالعلوم (جلد 8) — Page 404
۴۰۴ دوره یورپ کامل مذہب کا ایک یہ کام بھی ہے کہ وہ ایسے اصول بتائے جو انسان کی زندگی کے تمدنی شعبوں کی تنظیم کریں اور جن پر عمل پیرا ہونے سے انتظامِ ملک اور تہذیب پایہ تکمیل کو پہنچے اور تمام دنیا میں امن و انتظام قائم ہو جائے۔مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی تعلیم کے اس شعبہ کو بھی بیان کیا اور اس میں دنیا کے لئے وہ حیرت انگیز صداقتیں ظاہر کردیں جو اس میں چھپی ہوئی تھیں اور اس تعلیم کے متعلق جو غلط فہمیاں تھیں ان کی تصحیح کر دی۔اسلام بادشاہ اور رعایا کے حقوق و فرائض ،انصاف کی آزادی ،انسان کے حقوق کا احترام، آقا اور نوکر کے تعلق اور ان کے جھگڑوں کا طریق فیصلہ، ایک مسلمان شہری کے فرائض غرباء کے حقوق اور مختلف مذاہب اور مختلف قوموں کے آپس میں تعلقات کی نسبت بڑی تفصیل سے بحث کرتا ہے۔بادشاہ اور رعایا کے تعلقات کی بابت مسیح موعودنے بیان کیا کہ (۱) گورنمنٹ پبلک کی خادم ہوتی ہے اور اس کو ہمیشہ اپنے آپ کو ایسا ہی خیال کرنا چاہے آپ خود روحانی حکومت کے مالک تھے اور آپ اپنے متعلق فرماتے ہیں ’’میرے واسطے کر مت رکھو کیونکہ میں تو خد مت کے لئے کھڑا کیا گیا ہوں‘‘ ۹؎ ان الفاظ میں آپ نے حکومت کے دو بڑے اصولوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے ایک یہ کہ وہ جو حکومت کرنے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں وہ پبلک کے خادم ہوتے ہیں اور یہ کہ اپنے فرض کی بجا آوری میں ان پر لازم ہے کہ وہ اپنا آرام قربان کردیں اور اپنا تمام وقت رعایا کی خدمت میں صرف کردیں۔آپ یہ عربی ضرب المثل عموماً فرمایا کرتے تھے کہ قوم کا امیر قوم کا خادم ہوتا ہے ۱۰؎ یعنی یہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے آرام کو قربان کر کے دوسروں کے آرام کے لئے ذرائع بہم پہنچائے (۲) جیسا کہ قرآن کہتا ہے ملک کا طرز حکومت ضروری ہے کہ رعایا کے مشورے کے ساتھ چلایا جائے مسیح موعود و تمام امور میں اپنے پیروؤں سے مشورہ لیا کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کو اپنی رائے دینے کی خوشی سے اجازت ہوتی تھی گو بعض اوقات آپ ان سے اختلاف رکھتے تھے۔یہ اس لئے کہ آپ کے پیرو مشورہ کی اہمیت کو سمجھیں اس طرح آپ نے اس صحیح جمہوریت کی روح کو تازہ کیا جس کو دنیا میں سب سے پہلے پیش کرنے والا اسلام تھا۔(۳) آپ نے یہ بتایا کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے قومی جھگڑوں کا ثالث ہو کر فیصلہ کرے جن کی وجہ سے بد نظمی پیدا ہونے کا احتمال ہو اور وہ امن عامہ میں خلل انداز ہوں۔آپ اکثر قومی فسادات کی طرف گور نمنٹ کو متوجہ فرمایا کرتے تھے اور آپ نے ان کو فرو