انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 399

۳۹۹ دوره یورپ پہنچاۓ وہ خود خدا کی ارسال کردہ کتاب ہی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ انسانی نشوونما کے فلسفہ کو بیان کرتی ہے اور یہ انسانی لیاقت سے بالا تر ہے کہ وہ ہر وقت تبدیل ہوتے رہنے والی ہستی کے نشوونما کے فلسفہ کا پورا پورا علم حاصل کر سکے۔اسلام کی تعلیم پر اکثر حرف گیری ہوا کرتی ہے لیکن جیسا کہ مسیح موعود نے ثابت کر دکھایا تمام اعتراضات جو اسلام پر کئے جاتے ہیں یا تو قلت تدبر یا ذاتی خیالات کو معقولیت پر فوقیت دینے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اسلام ایک ایسا طریقہ تعلیم پیش کرتا ہے کہ اگر اس کو ایسے عقل اور غور کےفیصلہ پر چھوڑ دیا جائے جو آبائی روایات یا ذاتی خیالات سے غیر متاثر ہوں تو ایک شخص معلوم کرے گا کہ انسان کی روحانی ترقی کے لئے اس سے بہتراور کامل کوئی شریعت نہیں۔یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام مذہب کو بزور شمشیر پھیلانے کی اجازت دیتا ہے حالانکہ قرآن صاف کہہ رہاہے ’’دین میں کوئی جبر نہیں کیونکہ ہدایت کو گمراہی سے بالکل کھول دیا گیا ہے اور ہر شخص دونوں میں فرق کر سکتا ہے" ۸؎ ہاں مسلمانوں کو صرف ان لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو اسلام کو برباد کر دینے یا مسلمانوں کو اس سے جبراًمر تد کرنے کی غرض سے ان سے جنگ کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جنگ کی صرف اتنے وقت تک اجازت ہے جب تک دشمن جنگ صرف اس غرض کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے جب دشمن جنگ کو ختم کردینا چاہے تو انہیں بھی ختم کردینی چاہئے اور ان کو پیغام صلح کبھی صرف غصہ کی وجہ سے نامنظور نہیں کرنے چاہئیں یا اس انتقام کی خواہش کی وجہ سے کہ ہم دشمن کو پِیس دیں تا آئندہ بے فا ئد ہ جان کا نقصان نہ ہو۔تمام جنگیں جو نبی کریمﷺ نے کیں دفاعی تھیں اور وہ ان دشمنوں کے ساتھ کی گئی تھیں جنہوں نے اپنے گھر اسلام کو نیست و نابود کر دینے کیلئے چھوڑ دیئے۔غلامی اور اسلام پھر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام غلامی کا مؤیّد ہے حالانکہ اسلام اس کا سب سے بڑاا دشمن ہے اور اس نے غلامی کے ان تمام طریقوں کا خاتمہ کردیا ہے جو ایامِ اسلام سے پہلے رائج تھے۔اسلام ان لوگوں کو غلام بنالینے سے منع کرتا ہے جو بلا وجہ پکڑ لئے جائیں یا صرف اس لئے کہ وہ دشمن کی قوم یا گروہ میں سے ہیں یا جو دنیاوی جنگوں میں قیدی لئے جائیں۔اسلام صرف ایسے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت دیتا ہے جو ایسی جنگ میں گرفتار