انوارالعلوم (جلد 8) — Page 389
۳۸۹ دوره یورپ کتابیں پڑھنایا اس سے باتیں کرنا بلکہ یہاں تک کہ اس سے مصافحہ کرنا ایسے زبوں جرائم ہیں کہ ان کے مرتکب کو دائره اسلام سے خارج کر دینے کے لئے کافی ہیں۔باوجود ہر قسم کی مخالفت کے لوگوں کے قلوب سلسلہ کے مقدس بانی کی طرف کھنچے جانے لگے اور جو کوئی بھی آپ سے ملتا آپ کی کتابیں پڑھتا وہ آپ کی صداقت سے بے حد متاثر ہوتا حتّیٰ کہ اس وقت جبکہ ۱۹۰۸ء میں آپ نے وفات پائی (اپنے مسیحیت کے دعوے کے ۱۸ برس بعد) آپ کے پیروؤں کی تعداد چالیس کَس سے ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئی اور آپ کے سلسلے نے ہندوستان کے غیر ممالک مثلًا افغانستان' برما ،سیلون اور افریقہ میں بھی پیرو پیدا کر لئے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے پہلے جانشین استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین کے زمانہ میں سلسلہ بدستور ترقی کرتا چلا گیا اور پھر خلیفہ اول کی وفات کے بعد جبکہ (یہ مضمون )لکھنے والا اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ کاامام مقرر کیا گیا توسلسلہ اور بھی سرعت سے پھیل رہا ہے۔اس وقت انگلینڈ، جرمنی ،اضلاع متحده امریکہ، مغربی افریقہ ،گولڈ کوسٹ، مصر “فارس ،بخارا، ماریشس اور آسٹریلیا میں با قاعدہ مشن کام کر رہے ہیں اور ہندوستان سے باہر افغانستان ، بخارا فارس ،عراق، عرب حجاز ،سیریا، مصر الجیریا، زنجبار ،کینیا، یوگنڈا نٹال (جنوبی امریکہ) گولڈ کوسٹ (گھانا)، سیرالیون ،نائیجیریا، سیلون برما، سٹریٹ سیٹلمنٹ ،جزائر فلپائن ،ماریشس آسٹریلیا، فرانس، انگلینڈ ،ہالینڈ ،اضلاع متحده امریکہ،ٹرینیڈاڈ اور کوسٹاریکا میں احمدیہ جماعتیں پائی جاتی ہیں۔ایک انگریزی رسالہ اور پانچ اردو اخبارات و رسائل سلسلہ کے مرکز سے شائع ہوتے ہیں۔ایک بنگالی رسالہ بنگال سے نکلتا ہے ایک انگریزی اور ایک تامل اخبار سیلون سے شائع ہوتے ہیں ایک فرانسیسی اخبار ماریشس سے شائع ہوتا ہے اور ایک سہ ماہی رسالہ امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔جماعت کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے اور اس میں تمام اقوام و مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔عیسائی ،سکھ ،ہندو، یہودی، زرتشتی اور اسلام کے مختلف فرقوں کے لوگ سلسلہ میں شامل ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔اطلاع متحده امریکہ میں تبلیغ کا کام صرف تین سال ہوئے شروع کیا گیا تھا اور اس قلیل عرصہ میں وہاں ایک ہزار سے کچھ اوپر افراد سلسلہ میں داخل ہو گئے۔سلسلہ کا تعلق اسلام سے ٍ احمدیت اسلام سے وہی نسبت رکھتی ہے جو کہ عیسائیت اپنی ابتداء میں یہودیت سے رکھتی تھی۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان