انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 332

۳۳۲ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ (الحجر:45) دوزخ کے سات دروازے ہوں گے اور ان سات دروازوں میں سے ہر اک میں سے دوزخی کا ایک حصہ گزرے گا۔لیکن چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم، دوزخی ہو یا جنتی ہر اک انسان کو مکمل ظاہر کرتا ہے یہ نہیں بتاتا کہ اس کے ٹکڑے کئے جائیں گے۔اس لئے سات دروازوں سے انسان کا ایک ایک ٹکڑا داخل ہونا درحقیقت اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ دوزخ کو سات حواس کے ذریعہ سے انسان محسوس کرے گا پس گویا سات دروازوں کے ذریعہ سے وہ دوزخ میں داخل ہو گا اور ہر اک دروازہ میں سے اس کا ایک حصہ داخل ہو گا یعنی ایک حصہ بینائی کے ذریعہ سے، ایک حصہ شنوائی کے ذریعہ سے، ایک حصہ قوت شامہ کے ذریعہ سے، ایک حصہ قوت ذائقہ کے ذریعہ سے، ایک حصہ قوتِ لامسہ کے ذریعہ سے، ایک حصہ قوت حاسہ کے ذریعہ سے جسے سنس آف ٹمپریچر کہتے ہیں یعنی حس حرارت اور حسِ برودت کے ذریعہ سے اور ایک قوت فاعلیہ کے ذریعہ سے جسے مسکولر سنس کہتے ہیں۔ان سات حسوں سے انسان تمام گناہ کرتا ہے یا تو آنکھ کے ذریعہ سے گناہ کرتا ہے کہ یہ چیزوں کو دیکھتا ہے یا بدی کی نگاہ ڈالتا ہے یا کان کے ذریعہ سےگناہ کرتا ہے کہ غیبتیں سنتا ہے فحش سنتا ہے یا ناک کے ذریعہ سے گناہ کرتا ہے کہ جس چیز کو نہیں سونگھنا چاہئے تھا اسے سونگھتا ہے یا ذائقہ کے ذریعہ سے گناہ کرتا ہے کہ ایسی چیزوں کو کھاتا ہے جو نہیں کھانی چاہئے تھیں یا لامسہ کے ذریعہ سے گناہ کرتا ہے کہ نرم بستر اور فرشوں کی خواہش اس کو بنی نوع انسان کے لئے مشقت اٹھانے میں روک ہوتی ہے یا پھر گرمی اور سردی کے ڈر کے مارے نیک کاموں میں سستی کرتا ہے اور یا سستی اور غفلت کے سبب سے اپنے جسم کو تھکان سے بچانے کے لئے نیک کاموں کو ترک کر دیتا یا ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔غرض سات ہی حواس ہیں جو انسان سے بدی کراتے ہیں اور یہی سات حواس انسان سے نیکیاں بھی کراتے ہیں۔پس جہنم کے سات دروازوں سے جن کے ذریعہ سے انسان جہنم میں داخل ہو گا وہی سات حواس مراد ہیں جن کے واسطہ اور سبب سے انسان دنیا میں گناہ کرتا تھا عالم آخرت میں یہی اس کے عذاب چکھانے کا موجب ہوں گے کیونکہ بوجہ بدی کی عادت ہونے کے ان سات جسمانی حواس کے مقابلہ میں سات روحانی حواس کمزور اور بیمار ہو جائیں گے اور بیماری کی وجہ سے وہ اس دکھ اور عذاب کو محسوس کریں گے جو اگلے جہان میں غلط کاروں کے لئے مقرر ہے۔چنانچہ ان ساتوں قسم کے عذاب کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔رؤیت کے عذاب کے متعلق