انوارالعلوم (جلد 8) — Page 321
۳۲۱ جاتی اس کے بعد اس کے سامنے ایک غیر منقطع زمانہ ہے۔جس حالت کو موت کہتے ہیں وہ روح کے جسم سے الگ ہونے کا ہی نام ہے جس کا لازمی نتیجہ دل کی دھڑکن کا بند ہونا اور جسم انسانی کا بے کار ہو جانا ہے۔اسلامی اصول کے مطابق روح اپنی طاقتوں کے اظہار کے لئے ہمیشہ جسم کی محتاج ہے اور جب کبھی جسم اس کی طاقتوں کے اظہار کے ئے ناقابل ہو جاتا ہے وہ اسے چھوڑ دیتی ہے۔جس وقت جسم روح کو چھوڑتا ہے اس کا نام موت ہے جس کے معنے بے حرکت ہو جانے کے ہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص مر گیا تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ اس کی روح اس کے جسم سے جدا ہو گئی ورنہ روح فنا نہیں ہوتی بلکہ زندہ رہتی ہے۔اور اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کو قبول کرتا ہے اور اس کی طاقتوں پر یقین رکھتا ہے تو وہ یہ یقین ہی کب کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام کارخانۂ عالم اسی لئے بنایا ہے کہ انسان اس میں پیدا ہو کر کچھ دنوں کھا پی کر یا اس دنیا کے اسرار قدرت دریافت کر کے فنا ہو جائے؟ یہ خیال کہ کوئی عاقل ہستی یہ تمام کارخانہ عالم یہ سورج، چاند، ستارے، زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں اور قدرت کے باریک در باری اسرار بنا کر اس پر ایک ایسے انسان کو پیدا کرے گی جو صرف ساٹھ، ستر یا سو سال زندگی بسر کر کے فنا ہو جائے گا ایک ایسا خیال ہے جسے عقل دھکے دیتی ہے۔انسان کے لئے اس قدر کائنات کا پیدا کرنا اور اس پر عقل کے ذریعہ سے اسے حکم بخشنا، چاہتا ہے کہ اس کے لئے ا س محدود زندگی کے علاوہ کچھ اور مقصد بھی مقرر کیا گیا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ وہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو دائمی زندگی دی جائے اور دائمی ترقیات کا راستہ اس کے لئے کھولا جائے۔سورۃ مومنون میں اللہ تعالیٰٰ زمین و آسمان کی پیدائش اور قدرت کے کارخانہ اور انسان کی طاقتوں کا ذکر فرما کر دریافت کرتا ہے کہ باوجود اس کے تم خیال کرتے ہو کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہے اور موت کے بعد کوئی اور حیات نہیں؟ پھر آخر میں سوال کرتا ہے أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ () فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ(المؤمنون :116-117) کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تم کو یونہی بطور کھیل کے پیدا کیا ہے؟ اور ایک دائمی زندگی کا سلسلہ اور دائمی ترقیات کا سلسلہ جو بعد الموت جاری رہے گا تمہارے لئے مقرر نہیں کیا؟ ایسا نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ بلند شان والا ہے اور سچا بادشاہ ہے وہ بِلا غرض اور بلا حکمت کام کوئی نہیں کرتا پھر وہ ایک ہی خدا ہے اور نہایت پاکیزہ اور دلوں میں عزت پیدا کر دینے والی صفات کا مالک ہے پس یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے دنیا کو پیدا نہیں کیا یا اس نے تو پیدا کیا ہے