انوارالعلوم (جلد 8) — Page 287
کیا جائے اور اگر جائیداد بھی نہ ہو تو رشتہ دار اس کا قرض ادا کریں اور اگر رشتہ دار بھی نہ ہوں تو حکومت اس کا قرض ادا کرے۔حکومت کو خاص حالات میں قرضوں کی ادائیگی کا زمہ دار قرار دے کر اسلام نے قرض کے طریق کو نہایت آسان کر دیا ہے۔اس علم کی وجہ سے مالدار لوگوں پر اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔اس علم سے لوگ ناجائز فائدے بھی حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ اول تو کوئی شخص پسند نہیں کرے گا کہ وہ اپنا روپیہ کسی کو اس خیال سے وید سے کہ اگر یہ بے جائد او کے مر گیا تو مجھے روپیہ حکومت دے گی۔دوسرے چو نکہ حکومت یہ دیکھے گی کہ قرض ضروریتھا اور جائز تھا اور مرنے والا کی مجبوریوں کی وجہ سے اس کوارا نہیں کر سکا۔قرض دینے والے کو یہ خطرہ بھی لگارہے گا کہ شاید میرا روپیہ نہ ملے اور وہ حقیقی ضروریات پر ہی قرض دے گا۔ایسے اموال فروخت نہ کریں جو نا قص مصالحے سے بنے ہوئے ہوں اور ان کو معلوم ہو کہ یہ ناقص ہیں گو ان کی شکل اچھی ہو۔اسی طرح یہ بھی منع ہے کہ ظاہری نقص کو چھپا کر رکھے مثلا اگر غلہ گیلا ہو گیا ہے تو جائز نہیں کہ اوپر کلک غلہ رکھ کر کیسے غلہ کو چھپالے۔اور اسی طرح سے جائز نہیں کہ مثلا پھٹے ہوئے تھان کے ناقص حصہ کو دبا کر رکھے بلکہ چاہئے کہ نقص کو گالک پر ظاہر کردے۔اور اگر کوئی بلا نقص کے اظہار کے سودا فروخت کرتا ہے تو گاہک کا حق ہو گا کہ مال واپس کر کے اپنی قیمت لے لے۔اور پھر ایک ہدایت یہ ہے کہ سودا ہو چکنے کے بعد اور مال وصول کر لینے اور روپیہ دینے کے بعد بیع نخ نہیں ہو سکتی۔اسی طرح یہ علم ہے کہ مال کی دو قیمتیں مقرر نہ کرے مثلا یوں نہ کرے کہ ہوشیار آدمی کو زیادہ مال دے اور بچہ یا ناواقف کو کم کیو نکہ گو اس کا اختیار ہے کہ جو چاہے اپنے مال کی قیمت مقرر کرے مگر اس کو یہ نہیں جس سے جو قیمت چاہے لے لے۔ہاں اگر کوئی خریدار ایسا ہے کہ اس سے کوئی خاص ذاتی تعلق ہے تو اس کے ساتھ رعایت کر سکتا ہے جیسے رشتہ دار یا استادیا کوئی ہمسایہ اجر و غیره - اسی طرح اسلام علم دعا ہے کہ تاجر جب کسی چیز کو فروخت کرتے تو بات اسے لکھ لے یا اس میں گواہ مقرر کرنے تک ایسا نہ ہو کہ ایک شخص پہلے کسی کے پاس ایک چیز فروخت کرے اور پھر خریدار پر چوری کا الزام لگادے یا قیمت کی وصولی کا دعوی دوبارہ کر دے یا چوری کی چیز فروخت کردے۔اور جب خریدار پکڑا جائے تو اجر اس کے پاس پینے سے انکار کر دے۔پس اسلام ان