انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 269

۲۶۹ کو قائم کیا جائے جو سوسائٹی کے بنانے کے لئ ےضروری ہیں اور پھر وہ حقوق مراد ہیں جو بنی نوع انسان کو ایسے امور میں حاصل ہیں جن میں ان کے فوائد متحد ہیں اور اسی طرح وہ فرائض جو بنی نوع انسان کی مشترک ترقی کے لئے افراد کے ذمہ لگائے گئے ہیں۔میں جب غور کرتا ہوں تو میرے نزدیک تمدن اخلاق کے ہی ایک حصہ کو جامۂ عمل پہنانے کا نام ہے۔اخلاق اور تمدن میں درحقیقت یہی فرق ہے کہ علم اخلاق تو افراد کی پاکیزگی سے بحث کرتا ہے اور علم تمدن قومی پاکیزگی سے بحث کرتا ہے گویا اخلاق کا وہ نقطہ جو فرد سے وابستہ ہے ہم اسے اخلاق سے موسوم کرتے ہیں اور خلاق کا ہو نقطہ جو مجموعۂ افراد سے تعلق رکھتا ہے ہم اسے تمدن کہہ لیتے ہیں۔جب ہم اخلاق کا ذکر کرتے ہیں تو ہم گویا یہ بحث کرتے ہیں کہ انسان کو اپنے نفس کو پاک بنانے کے لئے کیا اعمال کرنے چاہئیں؟ اور جب ہم تمدن کا ذکر کرتے ہیں تو گویا ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ مختلف افراد آپس میں محبت سے رہنے اور بحیثیت قومی، ترقی کرنے کے لئے کس طرح معاملہ کریں؟ پس صرف فرق یہ ہو گا کہ اول الذکر موقع پر ہم صداقت کی حقیقت پر بحث کریں گے اور ثانی الذکر موقع پر ہم اس صداقت کو مختلف افراد کے متعلق استعمال کرنے کے طریق پر بحث کریں گے۔اس مفہوم کو بیان کر دینے کے بعد جو میں تمدن کا سجھتا ہوں میں اسلام کی تعلیم تمدن کے متعلق بیان کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے علاوہ مختلف جگہ پر تمدن کے احکام بیان کرنے کے تمدن کے متعلق ایک مکمل سورۃ اتاری ہے جو مختصر مگر تمدن کی اقسام کے بیان کرنے اور اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلانے پر مشتمل ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری سورۃ یہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک آخری ترقی انسان کی جسمانی ضروریات کے متعلق تمدن میں درستی ہی ہے۔اس سورۃ میں قرآن کریم میں تمدن کو اللہ تعالیٰٰ کی تین صفات کے ماتحت تین قسموں میں تقسیم کیاہے سب سے پہلے قسم تمدن کی اہلی تعلقات بیان کی ہے جو خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے ماتحت ہے۔اس میں خاندان اور قوم کے تعلقات پر بحث اور ان کے آپس کے فرائض کو بیان کیا جاتا ہے۔اہلی تعلقات میں وہ رشتہ داریاں بھی شامل ہیں جو نسبی یا صہری تعلقات کے سبب سے ہوتی ہیں اور وہ برادرانہ تعلقات بھی شامل ہیں جو بوجہ ایک ملک اور ایک علاقہ میں رہنے کے پیدا ہو جاتے ہیں۔