انوارالعلوم (جلد 8) — Page 243
۲۴۳ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ(النحل: 91) اللہ تعالیٰ تم کو عدل اور احسان اور عزیزوں جیسے سلوک کا حکم دیتا ہے اور تم کو ان بدیوں سے جو انسان کے نفس سے تعلق رکھتی ہیں اور ان سے جو ظاہر ہوتی ہیں اور لوگوں کو بری لگتی ہیں اور ان سے جن سے لوگوں کو عملی تکلیف پہنچتی ہے روکتا ہے اور تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم دنیا میں نیک نام چھوڑو۔اس آیت میں نیکیوں کے بھی تین مدارج بیان کئے ہیں اور بدیوں کے بھی تین مدارج بیان کئے ہیں کُل نیکیاں اور بدیاں انہی تین تین قسموں کے نیچے آ جاتی ہیں۔نیکیوں کا پہلا درجہ عدل ہے یعنی برابری کا معاملہ جیسا کہ کوئی اس سے معاملہ کرے اور ویسا ہی یہ اس سے کرے یا جس قدر حسن سلوک اس سے کرے اتنا ہی حسن سلوک یہ اس سے کرے اور یہ بھی کہ خیالات میں عدل رکھے جس قسم کے خیالات یہ چاہتا ہے کہ لوگ میرے متعلق رکھیں ویسے ہی خیال یہ ان کی نسبت دل میں رکھے۔غرض کہ ہر اک معاملہ میں برابری کو ملحوظ رکھے اور یہ نہ کرے کہ لوگ تو اس سے اچھا معاملہ رکھیں اور یہ ان سے برا معاملہ رکھے اور نہ یہ کہ خود تو لوگوں سے اچھے معاملہ کی امید رکھے اور آپ ان سے برا معاملہ کرنا چاہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ لفظ عدل سے اس قسم کے بدلے بھی خارج ہیں جو ایسے امور پر مشتمل ہوں جو قطعی طور پر ناپسند ہوں مثلاً فحش کلامی یا بدکاری یا جھوٹ وغیرہ۔عدل کے ماتحت اس کو یہ تو حق ہے کہ جرم کی اس قدر سزا دے جس قدر کہ اس سے کسی نے معاملہ کیا ہے مگر اسے یہ جائز نہیں کہ اگر جرم کسی فحش قسم کا ہے جس کا ارتکاب کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوتا تو یہ بھی اسی قدر فحش کا مرتکب ہو جائے کیونکہ فحش زہر ہے اور زہر کے مقابلہ میں زہر کھا لینا گویا اپنا دہرا نقصان کر لینا ہے اور ایسا بدلہ بدلہ نہیں بلکہ عملی جہالت ہے۔دوسرا درجہ نیکیوں کا اسلام احسان بتاتا ہے یعنی یہ کوشش کرے کہ جس قدر کوئی سلوک کرے خواہ مالی معاملات میں خواہ جسمانی میں خواہ علمی میں اس سے بڑھ کر یہ اس سے سلوک کرنے کی کوشش کرے اور اگر کوئی اس سے بد سلوکی کرے تو حتی الوسع یہ اس کو معاف کرے سوائےاس صورت کے کہ معافی فساد کا موجب ہو۔یہ درجہ پہلے درجہ سے اعلیٰ ہے اور وہی شخص اس درجہ تک نیکی میں ترقی کر سکتا ہے جو پہلے عدل کے درجہ کو طے کر چکے اور اپنے نفس کو اس کا عادی بنا لے ورنہ ایک سطحی تغیر اس کی طبیعت میں ہو گا اور تھوڑی سی غفلت سے پھر نیچے گر جائے گا۔